خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 100

خطبات محمود جلد (5) 1++ کو بیان کر دیا۔اسی طرح نماز کے لئے بھی بیان ہوا ہے۔اقامہ کے معنے ہوتے ہیں کہ کسی چیز کو اس کی تمام شرائط سے پورا کر دینا۔اقامت کے معنے کھڑا کرنا ہے۔اور کھڑا ہونا چستی کی علامت ہے جس طرح بیٹھ جانا ستی کی۔جس وقت عربی میں اقام الامر کہیں گے۔تو اس کے یہ معنے ہوں گے اس نے اس کام کی تمام شرائط پوری کر دی ہیں تو چونکہ یہاں خلاصہ بیان کرنا شروع کیا۔اس لئے فرمایا کہ نماز کے لئے جس قدر احتیاط ہو سکتی ہے اس سے کام لیتے ہیں۔وضو کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں تو خشوع و خضوع سے پڑھتے ہیں۔رکوع اور سجود بڑے سکون سے کرتے ہیں۔ٹھہر ٹھہر کر اس کو ادا کرتے ہیں جو باتیں خواہ قرآن نے انہیں بیان کیا ہو یا احادیث سے ثابت ہوں ان تمام شرائط سے وہ نماز کو ادا کرتے ہیں تب وہ جا کر متقی بنتے ہیں۔اگر یونہی پڑھ لی جاتی ہے تو وہ مصلی ہے اس لئے يُقِيمُونَ الصَّلوة کے ماتحت ہم اس کو یہ نہیں مان سکتے کہ وہ متقی کی اس تعریف کے ماتحت آ کر جو بیان کی گئی ہے متقی ہو گیا۔پس ہر ایک مسلم کو چاہیے کہ وہ اپنی نماز کے متعلق دیکھے کہ وہ اقامت الصلوۃ کرتا ہے یا صرف نماز پڑھتا ہے کیونکہ قرآن شریف متقی کی تعریف میں بتاتا ہے کہ وہ اقامت الصلوۃ کرتے ہیں پس جوا قامت الصلوۃ کرتے ہیں وہی متقی ہیں۔اس زمانے میں بہت سے لوگ ہیں جو اقامت الصلواۃ کا مقصد نہیں دیکھتے حالانکہ نماز کا مطلب تو یہ تھا کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہو۔وہ غور کریں کہ کون کونسی ایسی باتیں ہیں جو ہماری نماز کو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ بناتی ہیں۔اقامت الصلوۃ یہی تو ہوتی ہے۔بہت ہیں جو ہماری جماعت میں سستی کرتے ہیں اور بہت ہیں جو مسجد میں نہیں آتے اور بہت ہیں جو وقتوں کے پابند نہیں اور باتوں کا تو ہماری جماعت خدا کے فضل سے بہت خیال رکھتی ہے۔لیکن ابھی ایک سب سے بڑا نقص ان میں ہے کہ مساجد میں نماز نہیں پڑھتے حالانکہ یہ بھی شرائط اقامت الصلوۃ میں داخل ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس قدر ضروری قرار دیا ہے کہ فرماتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ جب صبح یا عشاء کے لئے جماعت کھڑی ہو تو میں کچھ آدمیوں کے سروں پر لکڑیوں کے گٹھے لے کر ان لوگوں کے گھر چلا جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے۔