خطبات محمود (جلد 5) — Page 99
۹۹ 14 خطبات محمود جلد (5) با قاعدہ با جماعت نماز ادا کریں (فرموده ۵ رمئی ۱۹۱۶ء) تشہد وتعوذ کے بعد سورۃ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔القمر O ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقُهُم يُنفِقُونَ (البقرة : ۲ - ۴) اور فرمایا : قرآن کریم کی دوسری سورۃ کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی کچھ نشانیاں بتائی ہیں۔ان علامتوں میں سے جو مومنوں کی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں۔ایک علامت پر میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔وَيُقيمُونَ الصَّلوة یعنی وہ اقامت الصلوۃ کرتے ہیں یصلون نہیں فرمایا۔یقیمُونَ الصلوۃ فرمایا ہے۔قرآن کریم کا کوئی لفظ لغو نہیں۔کوئی لفظ قافیہ بندی کے لئے نہیں آتا جب خود صلوٰۃ کے لفظ سے ہی یہ مضمون ادا ہو سکتا ہے تو قرآن شریف جو اختصار کا سب سے زیادہ خیال رکھتا ہے اس نے يُقِيمُونَ الصَّلوة کیوں رکھا۔یہ ایک سوال ہوتا ہے ایک ایسا شخص جس نے قرآن کریم پر غور نہ کیا ہو وہ بہت آسانی سے جواب دے گا کہ آخر خدا نے کوئی لفظ تو رکھنا ہی تھا یہی رکھ دیا لیکن وہ شخص جس نے قرآن کریم پر غور کیا اور تدبر اور امعان سے اس کو دیکھا ہو وہ یہ نہیں کہہ سکتا اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ اس لفظ کے رکھنے میں کوئی حکمت ہے ورنہ دو کیوں رکھے ایک کیوں نہ رکھ دیا۔وہ حکمت یہ ہے کہ اس رکوع میں اصول اعمال اور اصول عقائد کا بیان ہو رہا ہے اور ان میں اسلام کی تعلیم کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔محض یہ نہیں بتایا کہ نماز پڑھنی فرض ہے بلکہ اسلام کا خلاصہ بتایا کہ اسی چیز کا نام اسلام ہے۔جب فردا فردا کوئی بات بیان کی جاتی ہے تو صرف اس کے متعلق بیان کر دیا جاتا ہے لیکن جب اصولاً سب کا خلاصہ بیان کیا جاتا ہے تو ایسے لفظ رکھے جاتے ہیں جو تمام معنوں پر حاوی ہوں جس طرح زکوۃ کے لئے بیان ہوا۔اس کے ہر ایک حصے اور شعبے