خطبات محمود (جلد 5) — Page 52
۵۲ 8 خطبات محمود جلد (5) دو دو چار چار بیویاں کرو! فرموده - ۱۰ / مارچ ۱۹۱۶ء) (النساء:۳) تشہد وتعو ذاور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیت پڑھ کر فرمایا :۔وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْلَى وَثُلكَ وَرُبعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ ادنى الَّا تَعُولُوا - فرمایا۔اسلام کے معنے کامل فرمانبرداری کے ہیں۔اور اگر کوئی شخص مسلم کہلاتا ہے اور اپنی خواہشوں اور اپنے اغراض اور خیالات کو اسلام کے احکام پر مقدم کرتا ہے تو وہ نام کا مسلم ہے لیکن خدا کے حضور مسلم نہیں کہلا سکتا۔جب مسلم کے معنے فرمانبردار۔متبع - مطبع اور ہر ایک بات کے ماننے والے کے ہیں تو پھر ایسا شخص جو اسلام کے احکام کو نہیں پکڑتا اور اس کے فرمانوں کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔وہ مسلم نہیں ہو سکتا۔ایسے شخص کا کیا حق ہے کہ وہ مسلم کہلائے۔مسلم وہی ہے جو خدا کے آگے اپنی گردن ڈال دے۔اور اس کے تمام کام خدا کے احکام کے ماتحت ہو جائیں اور وہ ان باتوں کو پسند کرے جنہیں خدا تعالیٰ نے پسند کیا ہے یہی مسلم کی تعریف ہے اس تعریف کے ماتحت یہ شخص مسلم ہے۔لوگ اپنی پسند کے ماتحت آنے والے احکام کے لئے بڑی خوشی سے فرمانبرداری کا اظہار کرتے ہیں۔اگر کسی بیٹے سے قرضہ لیا ہوا ہو تو وہ سود سے بچنے کی بڑی کوشش کریں گے اور کہیں گے یہ تو ہمارے مذہب کے خلاف ہے ہمارے مذہب نے تو اسے جائز نہیں رکھا۔لیکن اگر لڑ کیوں کو حصہ دینا ہو تو کہہ دیں گے ہم شریعت کے پابند نہیں۔ہم رواج کے پابند ہیں۔غرض یہ کہ انہوں نے شریعت کو ایسے بنا چھوڑا ہے کہ مطلب کی بات کو لے لیا۔اور جو خلاف منشا ہوئی اسے چھوڑ دیا