خطبات محمود (جلد 5) — Page 562
خطبات محمود جلد (5) ۵۶۱ دن۔عید الفطر اور عید الاضحی۔ان میں بڑے بڑے سبق اور نصیحتیں رکھی گئی ہیں۔ورنہ مومن کے لئے تو ہر روز اور ہر گھڑی عید ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو الحمد لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہہ کر شروع کیا ہے۔اور پھر جب مومن آخری دفعہ خدا کے حضور پیش ہوں گے تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اس وقت وہ کہیں گے۔آخِرُ دَعْوَانَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمين۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان پہلے الحمد سے شروع کرتا ہے اور عمل کرتے کرتے اس کا خاتمہ بھی حمد پر ہی ہوتا ہے تو اس سورۃ میں یہ سبق رکھا گیا ہے کہ مومن ہمیشہ خدا کی حمد ہی کرتا رہتا ہے۔اور وہ کبھی کسی ایسے غم اور مصیبت میں مبتلا نہیں ہوتا کہ وہ خدا کی حمد نہ کر سکے اس سورۃ میں ایک عجیب نکتہ بیان کیا گیا ہے جو یادر کھنے کے قابل ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلحَمدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کہ مومن انسان سے خدا تعالیٰ جو بھی معاملہ کرتا ہے وہ اسے آرام اور راحت پہنچانے والا ہی ہوتا ہے۔جو تکلیف وہ اٹھاتا ہے وہ انسانوں ہی کی طرف سے اٹھاتا ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارے گئے۔وطن سے نکال دیا گیا اور طرح طرح کے دُکھ پہنچائے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ سے جو معاملہ کیا وہ ایسا ہی تھا کہ آپ کی زبان سے حمد اور تعریف ہی نکلتی تھی تو مومن کبھی خدا تعالیٰ کی حمد کے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس لئے مومن کی یہ علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی حمد کرتا رہتا ہے۔لیکن ایک ایسا شخص جس کے دل میں کوئی ناراضگی یا نا خوشی ہوئی اور وہ منہ سے الحمد للہ رب العالمین کہے تو وہ منافقت سے کہے گا کیونکہ یہ بات اس کے دل سے نہیں نکل رہی ہوگی۔دل میں تو وہ سخت نا خوش ہوگا اس لئے خدا تعالیٰ انسانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ تم مجھ سے اپنے معاملات ایسے بناؤ کہ تم سے ایسا سلوک کیا جائے کہ تمہارے منہ سے حمد ہی حمد نکلے لیکن جو ایسے تعلقات نہیں رکھتا۔اور دکھ و تکلیف اٹھاتا ہے اس کے منہ سے حمد نہیں نکل سکتی اور اگر نکلتی ہے تو اس کا دل اس کو ملامت کر رہا ہوتا ہے۔تو ایک شخص کامل مومن اسی وقت ہوتا ہے جبکہ بچے دل سے خدا تعالیٰ کی حمد کرتا ہے۔اس وقت اس سے کوئی ایسا معاملہ نہیں کیا جاتا کہ اسے غم اور تکلیف ہو۔چونکہ