خطبات محمود (جلد 5) — Page 530
۵۲۹ 69 خطبات محمود جلد (5) اسلام کی وجہ سے کوئی شرمندہ نہیں ہوسکتا (فرموده ۳ / اگست ۱۹۱۷ء) حضور نے تشہد وتعوّذ اور سورۃ فاتحہ تلاوت فرمانے کے بعد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے فضل وکرم سے ہمارے لئے ایک ایسا دین نازل فرمایا ہے کہ جس پر چلنے کی وجہ سے ہمیں کسی مجلس اور کسی مقام پر کسی تذکرہ کے دوران میں اس طرح ذلّت نہیں اٹھانی پڑتی جس طرح دوسرے لوگوں کو جنہوں نے اپنے عقلی ڈہکونسلوں سے مذہب بنائے ہیں۔یا الہی مذہب کو اپنی تحریفات سے گھنا ؤ نا بنا دیا ہے۔اگر ہم بھی اسلام کو ایسا ہی کر دیتے یا اسلام ایسا ہی ہوتا تو ہمیں بھی ہر مقام پر شرمندہ ہونا پڑتا۔مگر اسلام کی کوئی بات ایسی نہیں جس پر وہ شخص جو عقل رکھتا ہو۔ضد و تعصب سے الگ ہو۔اعتراض کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم الحمد سے شروع کیا گیا ہے۔یعنی قرآن کی کوئی تعلیم ایسی نہیں۔جس پر ایک قرآن کے بچے پیرو کو شرمندہ ہونا پڑے۔اور اسکے منہ سے خدا کی تعریف نہ نکلے۔اگر کوئی اعتراض کرے تو اسکا زبردست جواب بھی اسی جگہ ملے گا۔قرآن کو لیکر دہریوں میں چلے جاؤ۔قرآن کو لیکر عیسائیوں اور یہودیوں میں چلے جاؤ قرآن کو لیکر سکھوں اور آریوں میں چلے جاؤ۔غرض قرآن کو لیکر تمام مذاہب کے پاس چلے جاؤ۔کہیں بھی اسکی کسی تعلیم کی وجہ سے تم شرمندہ نہیں ہوسکو گے۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایسی کامل تعلیم رکھی ہے اور ایسے پاک اور اعتراضوں سے بالا مسائل بیان فرمائے ہیں کہ ان پر کوئی اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔اسلام کے خطرناک دشمن بیسیوں سال کی کوشش اور تلاش کے بعد کوئی اعتراض کرتے ہیں۔مگر