خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 490

خطبات محمود جلد (5) ۴۸۹ حقائق اور معارف سے واقفیت ہی نہ ہو اور اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے غیروں سے مقابلہ کرنے کے لئے ہی نہ نکلیں۔ایسے لوگوں کو فوراً اپنے اس نقص کو دور کرنا چاہیے اور حضرت مسیح موعود کی کتب کو پڑھنا اور ان سے واقف ہونا چاہئیے۔کیونکہ ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ پہلے وہ خود اپنے مذہب کو سمجھے اور اس کی سچائی کے دلائل معلوم کرے۔پھر کسی دوسرے کے سامنے رکھے۔اور یہی وہ طریق ہے جو صداقت کے پھیلانے کا موجب ہوسکتا ہے۔اگر تمام لوگ اس کو عمل میں لاتے تو کبھی یہ اختلاف جو تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے، نہ پیدا ہوتا۔لیکن افسوس کہ اکثر ایسا نہیں کرتے۔اگر کوئی شخص اپنے طور پر نہ سمجھ سکے تو اس کا فرض ہے کہ دوسروں سے جو دین سے واقف ہیں دریافت کرے نہ یہ کہ سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرے۔پس تم لوگ خود سمجھو۔اور دوسروں سے دریافت کرو اور پھر غیروں کو سمجھاؤ۔پس دین سے پوری پوری واقفیت خوب تو جہ سے اور نہایت جلد پیدا کر و۔اور سب کے سب دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہو جب تک اس طرح نہ ہوگا۔تمام جہان پر صداقت نہ پھیل سکے گی۔لیکن اگر کسی سے نہیں ملو گے۔اور اس کے سامنے حق نہ رکھو گے تو بتلاؤ کہ ہماری جماعت کس طرح بڑھے گی۔کیا اگر ہمیں یہی خوف دامن گیر رہے کہ کہیں سکھ نہ مقابلہ پر آجائیں۔آریوں سے مقابلہ نہ ہو جائے۔غیر احمدی یا عیسائیوں وغیرہ سے مقابلہ نہ ہو جائے تو کیا اس طریق سے اسلام کی صداقت دنیا میں پھیل سکتی ہے۔ہرگز نہیں۔بلکہ اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری ترقی بند ہو جائے گی۔اور جب ترقی بند ہوئی تو گویا جماعت کا خاتمہ ہو گیا۔کیونکہ ترقی کے رکنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ بعض لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے۔ہمارے مخالفین کا کام اسلام کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرنا اور وسوسے ڈالنا ہے اور کسی بات کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنا یا اس میں نقص نکالنا کوئی بڑا کام نہیں۔مثلاً ہر ایک شخص روٹی کو دیکھ کر یہ تو کہہ دے گا۔کچی ہے یا ٹیڑھی ہے یا جلی ہوئی ہے۔مگر یہ