خطبات محمود (جلد 5) — Page 489
خطبات محمود جلد (5) ۴۸۸ امام اور خلیفہ کی بیعت کرنا کوئی بات نہیں جب تک کہ آنکھوں کو کھول کر ان صداقتوں سے فائدہ نہ اٹھایا جائے جو اس سلسلہ کے امتیازات ہوں۔اور ان باتوں سے واقف نہ ہو جائیں جو اسمیں موجود ہوں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اپنے مخالفین سے نہ ملو۔میرے نزدیک یہ غلط ہے۔ان کو سمجھانے اور حق پہنچانے کے واسطے تو ملو۔لیکن اس غرض سے نہ ملو کہ تم ان سے کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل کرنے کی توقع یا امید رکھو۔جو لوگ یہ طاقت رکھتے ہوں کہ ان کو سمجھا سکیں اور ان کے اعتراضات کا جواب دے سکیں وہ ضرور ملیں۔کیونکہ ان کا فرض ہے کہ انہیں حق پہنچا ئیں۔ایسے لوگوں کا اپنے مخالفین سے نہ ملنا اپنے ایمان کی حفاظت کرنا نہیں ہے اور نہ اس طرح ایمان کی حفاظت ہو سکتی ہے۔بلکہ ایمان کی حفاظت اپنے مذہب سے پورا واقف ہونے اور اپنے دعاوی کے ثبوت میں دلائل رکھنے سے ہوتی ہے۔دیکھو اگر ہم غیر احمد یوں اور غیر مبائعین سے ملنا چھوڑ دیں تو ان لوگوں کو حق کس طرح معلوم ہو اور ہماری جماعت کس طرح ترقی کرے۔لیکن ملنا اس وقت مفید ہو سکتا ہے جبکہ ملنے کی طاقت بھی ہو۔ورنہ وہ شخص جو چار پائی سے بھی نہ اُٹھ سکتا ہو وہ کسی زور آور کا کیا مقابلہ کر سکے گا۔یا وہ شخص جس کا جسم زخموں سے چھلنی ہو وہ میدان میں نکل کر کیا بہادری دکھلائے گا۔ایسے آدمی کا تو میدان میں جانا دشمن کو نقصان پہنچانے کی بجائے اپنی جان کو نقصان پہنچانا ہے۔پس دشمن سے مقابلہ کرنے سے پہلے اپنے اندر طاقت اور قوت پیدا کرنی چاہئیے۔اور پھر مقابلہ کے لئے نکلنا چاہیئے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو اپنے مخالفین سے مقابلہ کرنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی کتب پڑھنی چاہئیں۔قرآن کریم اور احادیث نبویہ کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔اور اور کتب جو یہاں سے کسی کے مقابلہ میں لکھی جاتی ہیں۔ان کو پڑھیں۔اور نہ صرف پڑھیں بلکہ ان کو غور سے پڑھ کر انکے حقائق کو ازبر کریں۔پھر میدان میں نکلیں اور غیروں کو سمجھانے کی کوشش کریں۔یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ اپنی کتب کو پڑھا ہی نہ جائے۔ان کے