خطبات محمود (جلد 5) — Page 486
خطبات محمود جلد (5) ۴۸۵ کتاب میں صاف طور پر پیشگوئی ہے کہ ایلیاء آسمان پر گیا ہے اور آسمان سے ہی آئے گا۔اور اس کے بعد مسیح مبعوث کیا جائے گا مگر جب ان کو اسکے خلاف ایک ایسے شخص کو جوان میں ہی پیدا ہوا۔اور انہی میں پرورش پائی۔اور جس کا نام یوحنا تھا۔ایلیاء کے نام سے موسوم کیا گیا تو وہ حیران رہ گئے لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے اس وقت یہ وقت باقی نہیں ہے۔عیسائیوں کے لئے تو صرف یہ کافی ہے کہ جس طرح یوحنا ایلیاء ہے۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب مسیح ہیں باقی رہے مسلمان سوان کے لئے بھی حضرت سکی کی مثال نہایت کارآمد ہے۔کیونکہ حضرت مسیح کے لئے یہ نہیں آیا ہے کہ وہ آسمان پر گیا ہے اور جب آسمان پر گیا ہی نہیں تو آسمان سے آنا کیسا؟ یہاں صرف نزول کا لفظ ہے۔اور اس کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ آسمان سے اترے گا۔بلکہ یہ عربی کا محاورہ ہے کہ ادنی کے آنے پر خروج کا لفظ اور اعلیٰ کے لئے نزول کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ دجال کے لئے خروج کا لفظ آیا ہے۔اور مسیح کے لئے نزول کا۔پس اگر لوگ اس مثال سے فائدہ اٹھاتے تو اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام جیسی نعمت کے قبول کرنے سے محروم نہ رہنا پڑتا۔پس اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ اس بات میں تحیل کا کوئی مثیل نہیں کہ ان کو ایک ایسا کام سپر د کیا گیا جو کسی اور کو آپ سے پہلے نہیں سپر د کیا گیا تھا۔اگر مسلمان اس حقیقت پر غور کرتے تو ضرور ان کو ہدایت ہوتی مگر وہ ضد میں آکر حقائق کا انکار کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کر سکے سمجھ دے اور ہدایت کی راہیں بتائے۔(الفضل ۶ ارجون ۱۹۱۷ء)