خطبات محمود (جلد 5) — Page 477
خطبات محمود جلد (5) دعوے میں سچا ہے یا جھوٹا۔یعنے اس نے روپیہ لینا ہے یا نہیں لینا۔مگر میرے سامنے آکر یہی کہتا ہے کہ لینا ہے۔اسی طرح مدعا علیہ جانتا ہے کہ اس نے روپیہ دینا ہے یا نہیں دینا اور سچا ہے یا جھوٹا۔لیکن میرے سامنے انکار ہی کرتا ہے۔اب باوجود اس کے کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں اصل معاملہ سے واقف ہیں۔مدعی خوب جانتا ہے کہ اُسے روپیہ لینا ہے یا نہیں۔اسی طرح مدعا علیہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اسے روپیہ دینا ہے یا نہیں۔لیکن دونوں جھگڑتے ہیں اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ان کا فیصلہ کرنے کے لئے مجھے مقرر کیا جاتا ہے۔جسے ان کے لین دین کے متعلق کچھ بھی واقفیت نہیں ہے۔بتاؤ یہ رونے کا مقام ہے یا نہیں۔یہ کہکر ان کی چیخیں نکل گئیں۔اور رونے لگ گئے۔یہ صرف ان قاضی صاحب ہی کی بات نہیں ہے۔بلکہ ہر کام اور ہر محکمہ کا انسان اگر دیکھے تو اسے معلوم ہو جائے کہ جس قدر مجھ پر انعامات ہو رہے ہیں۔اسی قدر میری ذمہ داریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔اور مجھ پر بوجھ رکھا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سورۃ فاتحہ الحمد للہ سے شروع ہوتی اور ضالین پر ختم ہوتی ہے۔ایک ظاہر بین انسان تو یہی کہے گا کہ جب الحمد للہ سے شروع ہوئی ہے تو ختم بھی الحمد پر ہی ہونا چاہیئے تھی۔مگر ایسا نہیں ہے۔بلکہ ضالین پر ختم ہوتی ہے۔جس کی وجہ یہی ہے کہ ہر انعام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسانوں پر ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ان کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔لیکن بہت ہوتے ہیں جو انعام ہونے کے وقت ذمہ داری کو نہیں سمجھتے۔اس لئے ٹھوکر کھا کر کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں۔گویا ان کے لئے انعام ٹھوکر کا موجب بن جاتا ہے۔شبلی ایک مشہور بزرگ گذرے ہیں۔وہ جنید بغدادی کے جو صوفیا کے گویا باپ تھے۔شاگرد تھے۔وہ ایک علاقہ کے گورنر تھے۔کسی غرض کے لئے جس طرح حکام اپنے بالا دست افسروں کے پاس مشورہ کے لئے آتے ہیں وہ بھی ایک دفعہ بادشاہ کے پاس آئے۔اور جس مجلس میں آپ بادشاہ کے پیش ہوئے۔اُسی میں ایک ایسا شخص بھی پیش ہوا۔جس نے لڑائی میں بڑی بہادری دکھلائی اور بڑی خدمت کی تھی جس کے صلہ میں اُسے خلعت دیا جانا تھا۔بادشاہ نے اُسے ایک نہایت بیش قیمت خلعت پہنایا۔اتفاقاً اسے ریزش کی شکایت تھی۔چھینک جو آئی تو ناک سے رطوبت بہہ گئی۔بد قسمتی سے وہ رومال لانا بھول گیا تھا۔اور اپنے کپڑے نیچے پہنے ہوئے تھے۔جن کے او پر خلعت تھا۔اس لئے گھبراہٹ اور جلدی سے کہ اگر بادشاہ نے رطوبت دیکھ لی تو ناراض ہوگا۔خلعت سے ہی پونچھ دی۔بادشاہ کی نظر اس پر جا پڑی۔سخت ناراض ہو کر حکم دیا کہ اس کا خلعت اُتار لو اور باہر نکال دو۔کہ اس نے میرے دئے ہوئے خلعت کی ہتک کی ہے۔اس واقعہ کو دیکھ کر شبلی کی چیخ نکل گئی اور بادشاہ کو کہا کہ میرا استعفاء قبول کیجئے۔بادشاہ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے۔تم کیوں استعفاء دیتے ہو۔انہوں نے کہا۔اس شخص نے آپ کی خدمت بڑی