خطبات محمود (جلد 5) — Page 478
خطبات محمود جلد (5) ۴۷۷ جاں نثاری کے ساتھ کی ہے۔جس کے بدلہ آپ اسے جو کچھ بھی دیتے تھوڑا تھا۔لیکن آپ نے ایک خلعت پہنا یا جوا گر چہ اس کی خدمت اور کام کے نتیجہ میں ہی تھا۔مگر باوجود اس کے اور رومال کے نہ ہونے کی وجہ سے جب اس نے منہ پونچھ لیا تو آپ نے اس کے ساتھ یہ سلوک کیا۔حالانکہ اگر وہ منہ نہ پونچھتا تو بھی اس کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کیا جاتا۔لیکن مجھے جو خدا تعالیٰ نے خلعت عطا فرمائی ہے وہ میرے کسی فعل کے نتیجہ میں نہیں ہے۔بلکہ محض اس کے فضل سے ہے۔اس لئے میں اگر اس کی قدر نہ کروں گا تو کس قدر سزا کا مستحق ہوں گا۔پس میں آپ کی ملازمت سے باز آیا تو وہ اس طرح استعفاء دے کر اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جنید کے پاس چلے گئے اور ان کے شاگردوں میں داخل ہو گئے ا۔تو انعام کے ساتھ ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ہماری جماعت جو خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور رحم کے ماتحت قائم ہوئی ہے۔اس کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ خوب یا درکھے کہ ہر انعام کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔اور پھر وہ انعام جو ہم پر ہوا ہے۔وہ چونکہ بہت ہی عظیم الشان ہے اس لئے ہماری ذمہ داری بھی بہت زیادہ اور بہت بڑھی ہوئی ہے۔ہمیں وہ زمانہ نصیب ہوا ہے جس کے دیکھنے کی خواہش اور آرزو بڑے بڑے بزرگ اپنے ساتھ لے گئے۔پس جہاں یہ بہت بڑا انعام ہم پر ہوا ہے۔وہاں ساتھ ہی بہت بڑی ذمہ داریاں بھی ہم پر عائد ہوگئی ہیں۔اس لئے ہمیں اپنے قول اپنے فعل اپنی رفتارا اپنی گفتار میں بہت احتیاط کرنی چاہئیے۔تا کہ کسی کی ٹھوکر کا موجب ہو کر جماعت کو نقصان نہ پہنچائیں ہمیں ساری دنیا کے لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے جو دنیاوی ساز وسامان کے لحاظ سے ہر طرح بڑھے ہوئے ہیں۔ان کے مقابلہ میں ہماری مٹھی بھر جماعت ہے۔کروڑوں کی تعداد میں ہندو۔عیسائی۔یہود اور غیر احمدی موجود ہیں۔پھر ان کے پاس ہر قسم کے سامان ہیں۔اور ہمارے پاس ان سب کی کمی ہے۔ایک مثال ہے کہ بیا الٹا سوتا ہے۔کسی نے اُس سے پوچھا کہ اس طرح کیوں سوتے ہو۔اس نے کہا اس لئے سوتا ہوں کہ اگر آسمان گر پڑے تو اُسے اپنی ٹانگوں پر اٹھائے رکھوں۔اور لوگوں کو مرنے سے بچا لوں۔یہ مثال اس وقت بیان کی جاتی ہے جبکہ کوئی معمولی آدمی کسی بڑی ذمہ داری کو اُٹھانے کا مدعی ہوتا ہے۔یہ مثال غلط ہے یا صحیح۔مگر ہمارا حال واقعہ میں دنیا وی رنگ میں یہی ہے۔وہ ضلالت اور گمراہی کا سمندر جو سب کو بہائے لئے جا رہا ہے۔اس کے روکنے کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں۔پس جہاں پہلے ہی یہ حالت ہو۔وہاں اگر آپس میں نا اتفاقی اور فتنہ ہو تو پھر کس قدر رنج اور افسوس کا مقام ہے۔آپ لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ خطرات کے وقت دشمن اور دوست بھی ایک ہو جاتے ہیں۔اسی انيا تذکرۃ الاولیاء ص ۳۴، ص ۳۵۔