خطبات محمود (جلد 5) — Page 476
۴۷۵ 60 خطبات محمود جلد (5) اتفاق و اتحاد کی ضرورت فرموده کیم جون ۱۹۱۷ء تشہد وتعوذ کے بعد سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر کے فرمایا :- کوئی نعمت کوئی فضیلت کوئی رحمت اور کوئی احسان خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں پر نازل نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ ان کا کام اور ان کی ذمہ داری بھی نہیں بڑھ جاتی۔خدا تعالیٰ کی نعمتیں اور احسان ہی ایک ایسی چیز ہیں کہ جو انسان کے کندھوں کو فرائض کے بوجھ سے خم کر دیتی ہیں۔ایک دانا اور عقلمند انسان تو اس بوجھ کو سمجھتا ہے۔لیکن ایک نادان کی نظر نعمت اور انعام کی طرف تو ہوتی ہے۔مگر بوجھ کی طرف نہیں دیکھتا۔ایک بڑے بزرگ کی نسبت لکھتے ہیں ان کو کسی جگہ کا قاضی مقرر کیا گیا۔اسلام میں قاضی ایسے ہی ہوتے تھے جیسے آجکل حج ہوتے ہیں۔اور یہ ایک بہت معزز عہدہ چلا آیا ہے۔اور اب بھی معزز ہی ہے۔ان کے قاضی مقرر ہونے پر ان کے دوست آشنا جمع ہوئے کہ انہیں مبارکباد دیں۔لیکن جب ان کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ رور ہے ہیں۔اور روتے روتے گھگی بندھی ہوئی ہے۔دیکھ کر حیران ہو گئے۔اور کہا ہم تو آپ کے پاس اس لئے آئے تھے کہ آپ کو قاضی مقرر ہونے پر مبارکباد دیں۔مگر آپ رو ر ہے ہیں۔کیا کوئی ایسا سانحہ ہوا ہے جس کی تکلیف سے آپ رور ہے ہیں۔اس بزرگ نے کہا۔کیا قاضی مقرر کئے جانے سے بڑھ کر بھی کوئی ایسا واقعہ ہوسکتا ہے جس پر میں روؤں۔انہوں نے کہا یہ تو خوشی کا مقام ہے نہ کہ رونے کا۔بزرگ نے کہا۔تمہیں کیا معلوم؟ یہی تو رونے کا مقام ہے۔اس میں شک نہیں کہ یہ مجھ پر ایک انعام ہوا ہے۔مگر اس میں شک نہیں کہ ساتھ ہی مجھ پر ایسی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے جس کو میں اُٹھا نہیں سکتا۔دیکھو میں عدالت میں جاؤں گا۔لوگوں کے جھگڑے میرے پاس فیصلہ کے لئے آئیں گے۔اور باوجود اس کے کہ جھگڑنے والے مجھ سے زیادہ جھگڑے کی حقیقت سے واقف ہوں گے مجھے اس کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ایک شخص آکر کہے گا۔فلاں نے میرا اتنا روپیہ دینا ہے۔دلوائے لیکن دوسرا کہے گا۔مجھے اس کا کوئی روپیہ نہیں دینا۔اب روپیہ لینے والا جانتا ہے کہ وہ اپنے