خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 37

خطبات محمود جلد (5) ۳۷ ملک کے لئے آٹھ بیٹے دے چکی ہے اور نویں کے لئے کہتی ہے کہ اس کو بھی لے لو لیکن ادھر دین کے لئے اتنی کمزوری دکھائی جاتی ہے۔یادرکھو اور اس بات کو خوب یاد رکھو کہ بڑی کامیابیوں اور بڑی فتوحات کے لئے بڑی ہی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ہمارے تو اتنے دشمن ہیں کہ ان کے مقابلہ میں ہم ایک قطرہ بھی نہیں ہیں پھر بتاؤ کہ ہمیں کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے اور ہمیں کتنی ہمت اور کیسی کوشش سے کام لینا چاہیئے۔پس جب تک ہر ایک احمدی یہ نہ سمجھ لے کہ میرے ہی ذمہ سب کام ہیں اس وقت تک کامیابی نہیں ہوسکتی۔ہماری جماعت کو بہت بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے جماعت کو تیار رہنا چاہئیے۔اب وہ زمانہ آ گیا ہے۔جبکہ ہمارے تعلقات دور دراز ملکوں کے لوگوں سے بڑھنے شروع ہو گئے ہیں۔ہم تو خدا کے فضل سے ہر طرح کے امن میں ہیں۔مگر ممکن ہے کہ ہمارے اور ملکوں کے بھائی امن میں نہ رہیں اور ممکن ہے کہ ان کے ابتلاء میں ہمیں بھی حصہ لینا پڑے۔(مثلاً وہ وہاں سے ہجرت کر کے یہاں آئیں تو ہم ان کو اپنے اموال میں شریک کریں یا وہاں ان کی آزادی مذہب کے لئے بذریعہ اپنی محسن گورنمنٹ کے چارہ جوئی کریں۔ایڈیٹر ) اس کے لئے جماعت کو تیار رہنا چاہئیے۔اور ہر ایک کو اپنے دل میں یہ نیت کر لینی چاہئیے۔کہ خدا کے حضور میری جو قربانی بھی مقدر ہے اس کے لئے میں تیار ہوں۔پھر ساتھ ہی ایسے ابتلاؤں میں ثابت قدم رہنے کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا بھی مانگنی چاہئیے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ انسان پر بعض ابتلاء ایسے رنگ میں آتے ہیں کہ اگر انسان ان کے لئے یہ دعا کرے کہ یہ مجھ سے ٹل جائیں تو خدا تعالیٰ ایسے انسان کو اپنے سے بہت دور پھینک دیتا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ تم اس سے گھبراتے ہو اور ثابت قدم نہیں رہ کر دکھاتے۔اس لئے مجھ سے دور ہو جاؤ۔تو یاد رکھو کہ ایسے ابتلاؤں کے لئے یہ دعا نہیں کرنی چاہئیے کہ ہم سے ٹل جائیں بلکہ مومن کو چاہیے کہ ایسی دعاؤں میں لگا ر ہے کہ اے خدا ! اگر کوئی ایسے ابتلاء مجھ پر آنے والے ہوں جو میری طاقت اور ہمت سے بڑھ کر ہوں تو مجھے تو فیق دیجیئے کہ میں ان میں ثابت قدم رہوں اور ان میں پورا اتروں۔جب تک کسی انسان میں ایسا ایمان نہیں ہوتا اس وقت تک وہ انسان ہی نہیں ہے اور بندر۔سور اور کتے سے بھی بدتر ہے۔