خطبات محمود (جلد 5) — Page 38
خطبات محمود جلد (5) ۳۸ ا یہ تو ایک بات تھی جو میں نے بیان کر دی ہے اس کے علاوہ ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ قاضی عبد اللہ صاحب کا ولایت سے خط آیا ہے کہ میرا پہلا لیکچر ہوا۔جو بہت مقبول ہو ا ہے۔مجھے تو اس بات پر تعجب ہی تھا کہ قاضی صاحب ولایت جا کر کریں گے کیا۔کیونکہ انہوں نے یہاں کبھی کوئی لیکچر نہ دیا تھا اور نہ کبھی کسی مضمون پر بولے تھے۔انہیں بہت حجاب تھا۔چوہدری فتح محمد صاحب کی امداد کے لئے پہلے تو اور کئی تجویزیں دل میں آئیں مگر پھر یکلخت میرے دل میں یہ پڑا۔کہ قاضی صاحب کو بھیج دوں۔میرے ان کو بھیجنے کے سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہ تھی کہ انہوں نے یہاں تعلیم پائی تھی۔حضرت مسیح موعود کی صحبت میں رہے تھے۔میں نے خیال کیا کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان میں خود برکت ڈال دے گا۔چنانچہ آج ہی ان کا خط آیا ہے کہ ایک کامیاب لیکچر ہوا ہے اور لیکچر کے بعد ایک گھنٹہ تک سوال و جواب ہوتے رہے ہیں جن کا بہت عمدہ اثر ہوا۔اور لیکچر بہت پسند کیا گیا۔چوہدری فتح محمد صاحب وہاں سے چل پڑے ہیں آپ لوگ ان کے لئے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ انہیں بخیریت یہاں پہنچائے۔آج ولایت سے دو اور آدمیوں نے بیعت کے فارم پُر کر کے بھیجے ہیں اور اب وہاں بارہ احمدی ہو گئے ہیں۔غیر احمدی اس بات سے چڑا کرتے ہیں کہ تم لوگ مرزا صاحب کو حضرت مسیح سے افضل کیوں کہتے ہو۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح نے تین سال کے عرصہ میں صرف تیرہ حواری تیار کئے تھے جن میں سے ایک مرتد ہو گیا تھا۔مگر اب دیکھو کہ حضرت مسیح موعود کے ایک شاگرد نے اس سے نصف عرصہ میں یعنی ڈیڑھ سال میں بارہ احمدی بنالئے ہیں کیا اب بھی کسی کو مسیح موعود کا مسیح۔افضل ہونا معلوم نہیں ہوتا ؟ اخیر میں میں پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ گو ہم نے تبلیغ کے لئے باہر مبلغ بھیجے ہوئے ہیں لیکن یہ انتظام ایک بہت چھوٹے پیمانہ پر ہے اصل تبلیغ وہی ہے جو ہر ایک احمدی کرتا ہے اور جو سمندر کی لہروں کی طرح ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلتی جاتی ہے۔پس ہر ایک شخص خواہ باتوں سے خواہ کتابوں اور اشتہاروں سے جس طرح بھی ہو سکے تبلیغ کرے۔اور جب قوم کا ہر ایک فرد مبلغ ہو اس وقت کامیابیاں ہوتی ہیں اس لئے اس بات کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ ہر ایک شخص سمجھے کہ تبلیغ کا سارا بوجھ ނ