خطبات محمود (جلد 5) — Page 458
خطبات محمود جلد (5) ۴۵۷ گزارے۔مگر دیکھو تمہاری صحبت میں رہ کر یہ تم سے متاثر نہ ہؤا۔اس کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھو۔اس کے پاس نمونہ تو تم تھے۔اس لئے چاہیئے تو یہ تھا کہ یہ تمہارے جیسا ہوتا مگر اس نے اخلاق میں اس قدر ترقی کی کہ خدا نے اس کو رسول بنا کر تمہارے پاس بھیج دیا۔واقع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پڑھ کر حیرت آتی ہے۔کیسی ہمت اور کیسا استقلال تھا آپ کا کہ آپ ان میں رہ کر ان سے الگ رہے۔گو بظاہر اس آیت سے آپ کی کوئی فضیلت نہیں معلوم ہوتی کہ اے لوگو! تم میں سے ہی تمہارے پاس رسول بھیجا کوئی غیر نہیں بھیجا۔گو یا اس قوم کو بتایا گیا کہ تو بڑی خوش قسمت ہے۔جس میں سے خُدا کا نبی آیا۔لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اسی آیت میں خدا تعالی نے الفاظ کے لحاظ سے مجمل مگر معانی کے لحاظ سے مفصل آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو بیان کر دیا ہے۔مشرکین کو کہا گیا ہے کہ تم اپنی کسی بات کو پیش کرو اس کا عمل اس کے خلاف ہی ہوگا۔تم مشرک ہو۔مگر یہ اپنا موحد ہے۔تمہارے اخلاق میں رذالت ہے۔مگر اس کے اخلاق نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔تم ظالم ہو۔مگر یہ رحیم ہے۔حالانکہ یہ بھی تم میں ہی پیدا ہوا تم میں ہی رہا۔تمہارے پاس ہی عمر گزاری۔باوجود اس کے جب اس میں ایسی اعلیٰ درجہ کی باتیں پائی جاتی ہیں تو اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ کرو۔پھر فرمایا۔عزیز علیہ ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنین رؤف رحیم۔پہلے آپ کی عظمت بیان کی۔اس کے بعد آپ کے رسول ہونے کا ذکر کیا۔پھر فرمایا۔اس پر شاق گذرتا ہے۔اس پر ایسا بوجھل ہوتا ہے کہ جس سے کم ٹوٹ جائے (وہ امر جس کی برداشت نہ ہواسکوامر عزیز کہتے ہیں ) جب تم پر کوئی مشکل اور مصیبت آئے تو یہ تکلیف میں پڑ جاتا ہے۔مگر ہر تکلیف کے وقت نہیں بلکہ اسی وقت جبکہ دیکھتا ہے کہ تم پر ایسی مصیبت آئی ہے جو مافوق ہے۔وہ استاد جو جانتا ہے کہ لڑکے کی اصلاح کس طرح ہوتی ہے وہ کسی وقت اس کو سزا بھی دیتا ہے۔مگر اس کا سزا دینا اس کی اصلاح کو مدنظر رکھ کر ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس وقت اس کو سزا دینی چاہیے یا نہیں؟ ماں باپ کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اگر ماں باپ دیکھیں کہ استاد کی سز الڑکے کی طاقت سے بڑھ کر ہے۔اور ایسی ہے کہ وہ بجائے اصلاح کے بچہ کا خاتمہ کر دے گی تو بے شک ماں باپ دخل دیں۔لیکن جو والدین اُستاد کی ہر ایک سزا میں دخل دیتے ہیں اور واجبی سزا سے بھی گھبراتے ہیں وہ گو یا اپنی اولاد کو آپ خراب کرتے ہیں۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت ہے کہ اگر کوئی ایسی بات ان لوگوں پر آتی کہ جس سے وہ برباد ہونے لگتے تو آپ پر یہ بات شاق گزرتی۔مگر واجبی