خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 450

خطبات محمود جلد (5) ۴۴۹ ڈھیر ہو گیا تو عورتیں افسوس کے لئے آتیں اور پوچھتیں کہ کچھ بچا بھی ہے۔وہ کہتی کہ صرف یہ انگوٹھی بچی ہے۔اور کچھ نہیں بچا۔ایک عورت نے کہا۔بہن یہ انگوٹھی کب بنوائی ہے تو اس نے چیخ مار کر کہا کہ اگر مجھ سے یہ پہلے پوچھا جاتا تو میرا گھر کیوں جلتا۔گو یہ ایک قصہ اور کہانی ہے۔لیکن اس میں شک نہیں کہ جو لوگ کم حوصلہ کم تجربہ اور کم مشاہدہ رکھتے ہیں ان کو اگر کوئی خوشی کی خبر پہنچتی ہے یا کوئی ایسی چیز حاصل ہوتی ہے جسے وہ اچھا سمجھتے ہیں تو وہ اس پر اتراتے ہیں اور پھولے نہیں سماتے۔گووہ کیسی ہی حقیر اور ادنی درجہ کی کیوں نہ ہو۔ایسے لوگ جو حقیر کو معزز۔صغیر کو کبیر اور قلیل کو کثیر سمجھ لیتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے حوصلے وسیع نہیں ہوتے۔اسی طرح غم اور مصیبت کے متعلق ہوتا ہے۔بعض لوگ جن کو کبھی غم نہیں پہنچا ہوتا۔اگر ذرا سی رنجیدہ بات دیکھیں تو گھبرا جاتے ہیں۔اور ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو تلملا اٹھتے ہیں۔ایک تو وہ ہوتے ہیں جو خوشی کے اظہار کے لئے گھر بار کو خاک کر دیتے ہیں۔اور ایک یہ ہوتے ہیں کہ جو کانٹے کے چھنے جتنی تکلیف پر بھی شور مچاتے ہیں۔وجہ یہی ہے کہ ان کی نظر وسیع نہیں ہوتی۔جوں جوں کسی انسان کا تجربہ اور مشاہدہ بڑھتا جاتا ہے اس کے جوش اس کے قابو میں آتے جاتے ہیں۔ہر ایک رنگ اور ہر ایک طریق میں یہی بات ہے۔جس کو مختلف تجارب ہوتے جاتے ہیں وہ کبھی کسی بات پر نہیں گھبراتا۔اور جن لوگوں میں کسی قسم کے تجارب کی کمی ہوتی ہے۔ان سے اسی قسم کی کمزوریاں سرزد ہوتی ہیں۔بعض لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جن کو تجارب کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو موقع تو ملتا ہے مگر وہ توجہ نہیں کرتے۔ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی مکان کے پاس سے مہینوں نہیں سالوں گذرتا رہتا ہے۔مگر اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس مکان کی دیوار میں کتنے روشندان اور کتنی کھڑکیاں ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ اس نے باوجود پاس سے گذرنے کے ان کی طرف توجہ ہی نہیں کی ہوتی۔تو بہت سے لوگ ارد گرد کی چیزوں کی طرف توجہ نہیں کرتے جس سے انہیں تجر بہ اور مشاہدہ نہیں ہوتا۔اور یہ ان کی سستی اور لا پرواہی ہوتی ہے۔ایسے لوگ باوجود وسیع دنیا میں رہنے کے ایک مختصر اور نہایت ہی محدود دنیا میں رہتے ہیں۔ان کے حوصلے پست ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مشاہدہ وسیع نہیں ہوتا۔اور جب مشاہدہ وسیع نہیں ہوتا تو گویا ان کے لئے دنیا ہی تنگ ہوتی ہے۔اس لئے وہ تھوڑی سی خوشی کو زیادہ خوشی سمجھ لیتے ہیں۔اور ادنی سے رنج پر بہت زیادہ مصیبت کا اظہار کرتے ہیں۔