خطبات محمود (جلد 5) — Page 451
خطبات محمود جلد (5) ۴۵۰ بچوں کو دیکھو ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔لیکن جوں جوں ان کے تجارب بڑھتے جاتے ہیں۔اوران کا مشاہدہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔اسی قدر ان کی حالت کی اصلاح ہوتی جاتی ہے اور وہ زیادہ وقار سیکھ جاتے ہیں۔مگر تجربہ سے پہلے وہ تھوڑی سی بات پر بھی خوش یا نا خوش ہو جاتے ہیں اور نئی چیز جہاں کہیں نظر آئے یا کوئی نئی بات پیش آئے تو ان کے جوش زور کر کے باہر آتے ہیں۔تمدنی تعلقات انسان کو تجربہ اور مشاہدہ کرا کے بہت پختہ کر دیتے ہیں۔ایسا انسان نہ تو کسی نئی چیز کو دیکھ کر حیرت اور تعجب کا اظہار کرتا ہے اور نہ کسی تکلیف اور مشکل کے وقت جھٹ گھبرا جاتا ہے۔لیکن جو شخص الگ تھلگ زندگی بسر کرے گا اُس کا تجربہ اور مشاہدہ نہایت محدود رہے گا۔تمدن انسان کو رنج کا خوگر اور خوشی میں حد اعتدال سے متجاوز نہ ہونا سکھاتا ہے۔مگر وہ انسان جس نے اپنی آنکھوں سے کبھی کوئی بات نہ دیکھی ہو وہ بہت جلد گھبرا جائے گا۔ہر ایک وہ چیز جو کچھ بھی اپنے اندر عجوبہ رکھتی ہو اس پر بے حد تحیر ظاہر کریگا۔ایسا آدمی خاص طور پر کار آمد اور مفید نہیں ثابت ہو سکتا۔مثلاً کہیں مبلغ بنا کر بھیجا جائے اور وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہ پائے۔یا ان میں کوئی اور کمزوری محسوس کرے یا اپنی تبلیغ کا کوئی فوری اثر نہ دیکھے تو بالکل ہمت ہار بیٹھتا ہے۔وہ چونکہ لوگوں کو فرشتہ دیکھنا چاہتا ہے۔اس لئے ان کی معمولی معمولی کمزوریوں پر اس کی حالت دگرگوں ہو جاتی ہے۔اس کی حالت ایک ایسے بچہ کی سی ہوتی ہے۔جو بہت جلد ناراض ہوتا اور رودیتا ہے یا بہت جلدی خوش ہو جاتا اور ہنس دیتا ہے۔اور اس کی یہ حالت اس لئے ہوتی ہے کہ وہ کثرت سے موافق و مخالف بات دیکھنے کا عادی نہیں ہوتا۔مگر جب وہ اس قسم کے بہت سے نظارے دیکھ لیتا ہے تو اس پر کبھی گھبراہٹ نہیں آتی۔بعض لوگ حضرت مسیح موعود کے پاس آتے اور کہتے کہ ہمارے گاؤں میں فلاں شخص ہے اگر وہ احمدی ہو جائے تو تمام گاؤں کے لوگ احمدی ہو جائیں گے۔حالانکہ ان کا یہ خیال صحیح نہیں ہوتا۔کیونکہ اگر وہ مان بھی لے تب بھی بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو نہیں مانتے اور تکذیب سے باز نہیں آتے۔چنانچہ ایک گاؤں میں تین مولوی تھے وہاں کے لوگ کہتے کہ اگر ان میں سے کوئی مرزا صاحب کو مان لے تو ہم سب کے سب مان لیں گے۔ان میں سے ایک نے بیعت کر لی۔تو سب لوگوں نے کہدیا کہ ایک نے مان لیا تو کیا ہوا اس کی تو عقل ماری گئی ہے۔ابھی دونے نہیں مانا۔پھر ایک اور نے بیعت کر لی۔تو پھر مخالفین نے یہی کہا کہ ان دونوں مولویوں کا کیا ہے۔ابھی ایک نے تو بیعت نہیں کی ہے۔