خطبات محمود (جلد 5) — Page 441
خطبات محمود جلد (5) ۴۴۰ میں لگے رہتے اور عمدہ تجاویز پر عمل کرتے ہیں۔انہی میں سے ایک احمدیہ کا نفرنس کی تحریک ہے۔اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قائم کی ہوئی ایک انجمن ہے۔جو صدر انجمن احمد یہ کہلاتی ہے۔اس کے قائم کرنے کی غرض اور غایت یہ تھی کہ وہ اموال جولوگ یہاں خُدا کے راستہ میں خرچ کرنے کے لئے بھیجتے ہیں ان کی حفاظت کرے۔اور دیانتداری کے ساتھ خرچ کرے۔اگر کسی ایک شخص کے سپرد مال ہو تو اس میں کئی قسم کے نقص پیدا ہو سکتے ہیں۔لیکن جب بہت سے لوگ مل کر کام کریں تو محافظت کا اچھا۔سامان ہوسکتا ہے۔صحابہ میں بھی یہی طریق تھا کہ مال کا انتظام بعض معتبر صحابہ کے سپر دتھا۔اس لحاظ سے صدر انجمن مفید تھی اور ہے اور ہوگی۔جب تک کہ دیانت اور امانت سے کام کرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے فرمایا ہے کہ مجھے اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ مال کہاں سے آئے گا۔مال تو بہت آئے گا۔مگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ مال کو دیکھ کر لوگوں کے خیالات خراب نہ ہو جائیں ا۔اس لئے اس احتیاط کی ضرورت تھی کہ مالوں کی حفاظت پورے طور پر ہو سکے۔موجودہ اختلاف جو حضرت خلیفہ اول کے بعد ہوا۔کتنا بڑا تھا۔مگر اس سے بھی بڑے بڑے اختلافات ہو سکتے ہیں۔حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کی جنگ بہت خطرناک تھی۔یہ ہمارا اختلاف اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں تھا۔اس وقت حضرت ابن عباس کے قبضہ میں مال تھا۔جس وقت اختلاف ہوا۔اور حضرت علی اور معاویہؓ میں جنگ چھڑی تو انہوں نے مال پر قبضہ کر لیا اور کہدیا کہ یہ میرا حصہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی قسم کے خطروں کو مد نظر رکھ کر دُور اندیشی سے ایک انجمن بنائی۔اور اس کا نام انجمن معتمدین رکھا تا کہ وہ اموال جولوگوں کے اس کے قبضہ میں آئیں ان کو اچھی طرح اور صحیح طریق پر خرچ کرے۔یہ ایک بابرکت اور مفید بات ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر عمدہ نتائج پیدا کرنے والی بات وہ ہے جو آپ نے الوصیت میں فرمائی ہے کہ سب میرے بعد مل کر کام کرو۔اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ تمام احمدی اپنے اپنے وطن چھوڑ کر ایک جگہ آجائیں اور پھر کام کریں۔کیونکہ اس طرح تو جماعت بجائے ترقی کرنے کے تنزل کی طرف جائے گی۔سومل کر کام کرنے کے یہ معنے ہیں کہ آپس میں مشورہ سے کام کرو۔اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی۔اور نہ ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتی ہے۔جب تک اس کے سب افراد ان کاموں کو جن کا کرنا ان پر فرض کیا گیا ہے۔دلچسپی اور جوش سے نہ کریں۔اور ان کو انجام دینے میں حصہ نہ :- الوصیّت۔