خطبات محمود (جلد 5) — Page 419
خطبات محمود جلد (5) ۴۱۸ معزز ہو گئے۔کیونکہ عزت اور بڑائی کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمیشہ ایک ہی قوم کے لوگوں کے پاس رہنے والی ہو۔بلکہ سائے کی طرح پھرتی رہتی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج ایک شخص معزز ہے مگر کل ذلیل ہو جاتا ہے۔اور کل ایک ذلیل تھا۔مگر آج اس کو خداوند تعالیٰ نے معزز بنادیا ہے۔دیکھو یہی سائنسی جو آج کل مارے مارے پھرتے ہیں اور جن کی عورتیں اور بچے ہر جمعہ کو اس مسجد کے دروازوں پر تم سے بھیک مانگتے ہوئے تمہارے لئے عبرت کا نمونہ بن کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ان کے متعلق پرانی روایات سے ثابت ہے کہ ہندوؤں کے آنے سے پیشتر اس ملک کے یہی مالک اور بادشاہ تھے۔جب ان کی حکومت ہوتی تھی تو یہ بھی کسی قوم سے نفرت کرتے اور اسے حقیر سمجھتے اور نیچ ذات بتاتے ہوں گے۔مگر آج جو ان کی حالت ہے وہ تم دیکھ رہے ہو۔کیا تم جس شخص کو ادنیٰ سے ادنی بھی خیال کر سکتے ہو وہ گوارا کرے گا کہ ان کو لڑکی دینا تو الگ رہا ان کی لڑکی لے۔اسی قسم کی اور کئی قومیں ہیں۔مثلاً نٹ وغیرہ۔ایک زمانہ تھا کہ یہ اس ملک کے بادشاہ تھے۔اپنی حکومت وسلطنت پر فخر کرتے تھے۔اپنے زیر دستوں کو ذلیل و حقیر سمجھتے تھے لیکن اب دیکھو۔دنیا ان کوکیا بجھتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فخر کرنے اور دوسرے کو ذلیل سمجھنے سے سخت ناراض ہو جاتا ہے اور وہ باتیں جن کے باعث کوئی قوم یا کوئی انسان دوسروں کو تنگ کرنے اور ذلیل کرنے کے لئے فخر کرے۔چھین لیتا ہے اور پھر ایسے رنگ میں سزا دیتا ہے کہ جس کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا۔جہاں خدا تعالیٰ کی مخلوق کو حقیر کرنے کے لئے فخر کرنا خطرناک اور نہایت بُری بات ہے وہاں تکبر اور عیب چینی بھی نہایت ہی بڑے افعال ہیں۔کیونکہ ان سے فتنے بڑھتے ہیں۔دیکھو مذہبی تاریخ میں سب سے پہلا گناہ آبا و استکبار ہی ہے۔آبى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ( البقرہ:۳۵) خدا تعالیٰ نے ایک کو بلند کیا۔اور دوسرے کو کہا کہ تم اس کی اطاعت کرو۔مگر اس نے انکار اور تکبیر کیا اس لئے وہ کا فر یعنی ناشکرا ہو گیا۔حالانکہ اس کو شرم کرنی چاہئے تھی۔اور سوچنا چاہئے تھا کہ اگر مجھ کو کوئی رتبہ حاصل ہے تو وہ کس نے دیا ہے۔اسی نے جواب اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دے رہا ہے۔پھر اُسے دیکھنا چاہئے تھا کہ یہ رتبہ مجھے کسی اپنی محنت اور کوشش سے حاصل نہیں ہوا۔بلکہ خُدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور احسان کے طور پر دیا ہے۔پھر میں کون ہوں۔جو اس رتبہ کے باعث دوسرے کو اپنے سے کم تر سمجھوں اور اس کی اطاعت سے انکار کر دوں جس کی نسبت خد اتعالیٰ حکم دے رہا ہے مگر اس نے اباء واستکبار سے کام لیا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خُدا نے اُسے ذلیل اور خوار کر دیا۔اس نے اپنے تیں آدم کے مقابلہ میں بڑا جانا اس لئے ذلیل کیا گیا۔اس نے آدم کو حقیر سمجھا۔مگر خُدا نے اُسے بلند کر دیا۔