خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 342

خطبات محمود جلد (5) ۳۴۲ کے ماتحت اس لئے رکھتا ہے کہ ان میں استعارے ہیں چاہئیے کہ کہہ دے کہ قرآن کریم اور احادیث اور حضرت مسیح موعود کے الہامات سب کو چھوڑ دینا چاہئیے اور ان کو میرے الفاظ کے ماتحت لانا چاہئیے کیونکہ ان سب میں استعارے ہیں۔پھر عجیب بات ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو نبی تو کہا گیا ہے مگر اس سے مراد ظلی نبی ہے تو اس کو بھی چھوڑ دینا چاہیئے۔سب کچھ چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ گویا مذہب کوئی چیز ہی نہیں نہ قرآن ماننے کے قابل نہ حدیث ماننے کے قابل نہ حضرت مسیح موعود کے الہامات ماننے کے قابل۔کیونکہ ان سب میں استعارے ہیں ان سب کو چھوڑ کر سوفسطائی بن جانا چاہیئے۔کسی بادشاہ کی نسبت مشہور ہے کہ اس نے کسی سوفسطائی کو ہاتھی کے سامنے ڈال دیا جب وہ بھاگنے لگا تو بادشاہ نے کہا بھاگتے کیوں ہوا سکو بھی خیال ہی سمجھ لو۔اس نے کہا بھاگتا کون ہے یہ بھی آپ کا خیال ہی ہے کہ میں بھاگ رہا ہوں۔تو متشابہات کے ہونے کی وجہ سے جو سب کچھ چھوڑ دیا گیا تو پھر پیچھے وہم ہی وہم رہ گیا۔قرآن کریم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتب مِنْهُ ايت تُحكَمَتْ هُنَّ أُم الكتب وَأَخَرُ مُتشبهت ط کہ اس میں محکمات اور متشابہات ہیں۔لیکن جس میں متشابہات ہوں وہ تو قابل اعتبار نہیں اس لئے اس کو چھوڑ دینا چاہیئے۔پھر احادیث میں متشابہات ہیں اس لئے وہ بھی قابل قبول نہیں ان کو بھی ترک کر دینا چاہئیے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں متشابہات ہیں ان کو بھی چھوڑ دینا چاہیئے۔جب ان سب کو چھوڑ دیا گیا تو پھر باقی رہ کیا گیا۔لیکن یا درکھنا چاہیے کہ استعارے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو لغت میں شامل ہیں اور دوسرے وہ جو ہر انسان خود بنا لیتا ہے۔دوسری قسم کے استعاروں کے متعلق شبہ ہو سکتا ہے کہ ان میں شرک کی آمیزش ہے اور وہ مشکل سے سمجھ میں آسکتے ہیں۔مگر وہ جو زبان کے اندر داخل ہو گئے ہوں ان کی نسبت یہ خیال نہیں کیا جا سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں جو استعارہ ہے وہ بھی اسی قسم کا ہے۔ولد کے دو معنی لغت میں آئے ہیں (۱) بیٹا (۲) جماعت تو انت منی بمنزلة ولدی کے وہی معنی ہوئے جو جری اللہ فی حلل الانبیاء اے کے ہیں کہ تو مجھے ایسا پیارا ہے جیسے ایک جماعت پیاری ہوتی ہے۔لغت کی مشہور کتب لسان اور تاج میں ولد کے معنی ربط کے آئے ہیں اور ربط جماعت کو کہتے ہیں جیسا کہ حضرت شعیب کی نسبت قرآن کریم میں آیا ہے کہ لَوْلَا رَهْطك ترجمتك لے تو ولد کے معنی اولیاء کی جماعت ہوئی۔اس لئے اس الہام کے یہ معنی ہوئے کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرماتا ہے کہ تو میرے نزدیک وہی درجہ رکھتا ہے جو انبیاء کی ایک جماعت رکھتی ہے کیونکہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مظہر ہیں اور آپ کا مظہر تمام انبیاء کا قائم مقام ہے جیسا کہ قرآن کریم ے تذکره ص ۷۹ هود: ۹۲