خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 285

خطبات محمود جلد (5) ۲۸۵ اُسے ظل کہتے ہیں۔یعنی جتنے حصہ پر نور کو وہ روک نہ پڑنے دے اُسے خلق کہتے ہیں۔اگر یہی معنی خلق کے حضرت مسیح موعود پر چسپاں کئے جائیں تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود کی بھی کہ آپ گویا دُنیا کے لئے اندھیرا اور تاریکی ہو کر آئے تھے لیکن ظن کے یہ معنے آپ کے متعلق استعمال نہیں کئے جا سکتے۔اس شخص نے یہ دلیل اس وقت لکھی تھی۔اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ ایک زبردست دلیل ہے مگر آج اس کو یہ پھول گئی ہے اور اسی طرح بھول گئی ہے جس طرح یہ بھول گیا ہے کہ احمد حضرت مسیح موعود نہیں ہیں۔پہلے تو وہ صاحب یہ کہا کرتے تھے کہ جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو قرآن کریم میں احمد کہا ہے تو پھر میں کیوں آپ کی تعریف نہ کروں اور ہر آیت سے آپ کی تصدیق نکالتے تھے۔پھر کفر و اسلام کے مسئلہ پر گول کمرہ میں مجھ سے گفتگو کرتے رہے اور کہتے کہ آپ کے منکرین کو کافر نہ کہنا آپ کے درجہ کو گھٹانا اور آپ کی بہتک کرنا ہے مگر آج وہ یہ ساری باتیں بھول گئے ہیں۔توظلی نبی کی جو تعریف غیر مبائعین کرتے ہیں اس کا وہی مطلب ہے جو اس شخص نے اس وقت نکالا تھا جبکہ اسے دُوری نہیں ہوئی تھی اور وہ ایک خطر ناک مطلب ہے کیونکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سخت ہتک ہوتی ہے اور مانا پڑتا ہے کہ (نعوذ باللہ ) آپ کا وجود ایسا کثیف تھا کہ اس کے خدا تعالیٰ کے نور کے سامنے حائل ہونے سے اندھیرا پیدا ہو گیا اور وہ اندھیرا حضرت مسیح موعود تھے۔جس قدر کوئی چیز شفاف ہوتی ہے اسی قدر اس کا ظلت کم اندھیرا پیدا کرتا ہے۔مثلا شیشہ ایک شفاف چیز ہے اس کو سورج کے سامنے رکھنے سے جو ظل پیدا ہوگا وہ بہ نسبت ایک غیر شفاف چیز کے بہت کم ہوگا۔توظلت کا مطلب یہ ہے کہ ایک نورانی چیز کے سامنے کوئی ایسی روک کھڑی ہو جائے جو اس کے نور کو روک لے اور جتنے حصہ سے روک لے وہ اس کا ظلت ہوگا۔اگر یہی معنی ظلت کے حضرت مسیح موعود کے متعلق لئے جائیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ (نعوذ باللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے خدا تعالیٰ کے نور کے سامنے آنے سے جو اندھیرا پیدا ہو اوہ حضرت مسیح موعود تھے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایسا کثیف تھا کہ اس نے خدا کے نور کے سامنے آکر اندھیرا پیدا کر دیا اور جتنے حصہ پر آپ کی وجہ سے روشنی نہیں پڑ سکتی وہ مسیح موعود کا وجود ہے۔لیکن اس سے بڑھ کر خان کے بدترین معنے جو حضرت مسیح موعود کے متعلق لئے جائیں اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ باقی تمام حصہ پر نور ہی نور ہے مگر ایک حصہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہو جانے کی وجہ سے اندھیرا اور تاریکی ہوگئی ہے اور وہ تاریکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود ہے۔کیا ظلن کے یہ معنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر چسپاں ہو سکتے ہیں۔اگر کوئی چسپاں کرتا ہے تو دیکھ لے کہ اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔لیکن جس کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور حضرت مسیح موعود کی قدر ہے وہ تو کبھی بھی خلل کے یہ معنے نہیں کرسکتا اور نہ ہی خلق سے یہ مراد لے سکتا