خطبات محمود (جلد 5) — Page 249
خطبات محمود جلد (5) ۲۴۹ پہنچا ئیں۔وہ قوم جس کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی معرفت کو ثر ملا ہے اس کا یہ کام ہونا چاہئیے کہ اگر اس سے کوئی نادانی اور جہالت کی وجہ سے نہیں مانگتا تو بھی وہ اسے خود بخو ددے اور سیراب کرے۔جس کو خدا تعالیٰ نے علم دیا ہے وہ علم کو پھیلائیں اور جن کو کوئی اور بات معلوم ہے وہ اسے شائع کریں اور ذرا بھی بخل نہ کریں۔اس زمانہ میں ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے اس کوثر کا داروغہ مقرر کیا ہے تیرہ سو سال میں متفرق جماعتوں کے ہاتھ میں وہ رہا۔مگر اب خدا تعالیٰ نے ان سب سے چھین کر ہمیں دے دیا ہے۔اس لئے ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ لوگ جو اس آب حیات کے بغیر مر رہے ہیں۔ان تک پیالے بھر بھر کر پہنچائے۔اور انہیں پکڑ پکڑ کر پلائے۔اور یادر کھے کہ اس چشمہ میں کبھی کمی نہیں آ سکتی۔اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت تمہیں اس لئے دی ہے کہ تم خود بھی اس سے فائدہ اٹھاؤ اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔دیکھو بعض امیر مال تقسیم کرنے کے لئے دارو نے مقرر کرتے ہیں۔لیکن اگر وہ داروغے مستحق لوگوں کو مال دینے سے دریغ کریں تو انہیں ہٹا دیتے ہیں۔اور ان سے وہ کام چھین کر اور کو دے دیتے ہیں۔اسی طرح دین کے متعلق ہے۔وہ جو اسے تقسیم نہیں کرتے اور بے دینوں میں نہیں پھیلاتے ان سے چھین لیا جاتا ہے۔پس تم میں سے ہر ایک وہ جس کو قرآن یا حدیث یا جو کچھ بھی آتا ہے وہ دوسروں کو پڑھائے اور یہ خیال نہ کرے کہ اس کے علم میں کمی آجائے گی۔اس کے منہ سے نکل کر کوئی بات دوسرے کے کان تک نہیں پہنچے گی کہ اُسے ایک اور بات حاصل ہو جائے گی۔میں نے اس بات کا خوب تجربہ کر کے دیکھا ہے اور جس طرح روئیت کے متعلق شہادت دی جاسکتی ہے اسی طرح میں اس کے متعلق دیتا ہوں کہ کوئی بات اپنی جگہ سے نہیں ہلتی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس سے زیادہ نہیں مل جاتی ہے۔اور بیبیوں گنے زیادہ ملتی ہے گو یا لوگوں کو بتا نا ایک ڈاٹ ہوتا ہے کہ اس کو جب کھول دیا جاتا ہے تو اس زور سے دھار نکلنا شروع ہو جاتی ہے کہ بعض اوقات انسان اٹھا بھی نہیں سکتا۔پس تم لوگ کسی بات کے پہنچانے میں کبھی بخل مت کرو۔جہانتک ہو سکے دوسروں کو پہنچاؤ۔اور جو علم بھی خدا تعالیٰ نے تمھیں دیا ہے اُسے ان تک پہنچانے میں لگے رہو۔جن کے پاس اس سے تھوڑا ہے یا جن کے پاس بالکل ہی نہیں۔وہ تم سے دور بھاگیں گے۔لیکن تم انہیں پکڑ پکڑ کر دو۔وہ