خطبات محمود (جلد 5) — Page 138
۱۳۸ 19 خطبات محمود جلد (5) دُعا پر بہت زور دو (فرموده ۱۶ جون ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اورسورہ فاتحہ پڑھ کر فرمایا:- دنیا میں دو قسم کی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں ایک تو وہ جو کچھ عرصہ کے بعد پرانی ہو جاتی ہیں اور انسان کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔اس لئے آہستہ آہستہ ان کو چھوڑ دینا پڑتا ہے۔دوسری وہ چیزیں ہیں جو ہمیشہ نئی کی نئی رہتی ہیں۔اور ہر زمانہ میں انسان کے استعمال میں آتی رہتی ہیں ان کے چھوڑ دینے میں انسان کا اپنا نقصان ہوتا ہے۔اور جو انہیں چھوڑتا ہے گو یا اپنی کامیابی کو چھوڑتا ہے کیونکہ وہ کبھی پرانی نہیں ہوتیں جیسے کہ وہ انسان کی پیدائش کے وقت تھیں۔اور جس طرح کہ حضرت آدم کے وقت سے ان کی ضرورت تھی۔ویسے ہی موجودہ اور آئندہ زمانہ میں بھی ان کی ضرورت چلی جاتی ہے۔مختلف عقائد اور مختلف خیالات بھی پرانے اور نئے ہوتے ہیں۔کئی خیالات تھے جو کسی زمانہ میں بالکل نئے تھے۔اور لوگ ان کو نہایت ضروری سمجھتے اور کہتے تھے کہ ترقی انہی کے ذریعہ ہو سکتی ہے مگر آج انہیں کو پرانے خیالات کہا جاتا اور لغو قرار دیا جاتا ہے تو جس طرح ظاہری اشیاء نئی اور پرانی ہوتی ہیں اسی طرح خیالات اور عقائد بھی نئے اور پرانے ہوتے رہتے ہیں۔پھر ان میں بھی یہی حال ہے کہ بعض عقائد اور خیالات ایسے ہیں کہ ہمیشہ ایک ایسے ہی رہتے ہیں۔اور کبھی پرانے نہیں ہوتے۔وہ دائی صداقتیں ہوتی ہیں جن کو انسان کسی صورت میں بھی جھوٹ قرار نہیں دے سکتا۔اس قسم کی ہمیشہ نئی رہنے والی چیزوں میں سے ایک بڑی چیز دُعا ہے یہ بھی کبھی پرانی نہیں ہوتی۔کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا کہ انسانوں نے کہا ہو کہ اب یہ ہمارے