خطبات محمود (جلد 5) — Page 137
خطبات محمود جلد (5) ۱۳۷ ہے۔لیکن پردہ اٹھ جانے پر پھر بھی غلطی سے نہ ہٹنا ایک اور بات ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص لا ہور جائے اور وہاں جا کر اسے دکھ پہنچے تو اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔لیکن اگر لاہور جانے سے پہلے رویاء کے ذریعہ اس بات کا علم ہو جائے کہ وہاں جا کر مجھے دکھ پہنچے گا۔اور پھر چلا جائے تو یہ اس کی نادانی اور بیوقوفی ہوگی۔پہلی دفعہ جانا اس کی نادانی ہوگی۔کیونکہ اسے علم ہی نہ تھا لیکن جب اسے بتادیا گیا تو پھر جانا اس پر الزام لائے گا۔یہ تو ان لوگوں کی جہالت ہے جو ہم پر حضرت مسیح موعود کی ہتک کا الزام لگاتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیوں وہ ایسا کہتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایسے لوگ تو مجھ پر بھی اسی طرح حملے کرتے ہیں اور انسان کا کلام تو الگ رہا خدا کے کلام کو بھی سنکر اور سمجھ کر اور معنی کر لیتے ہیں۔پس جب اللہ تعالیٰ کے کلام کے متعلق ایسا کرنے والے ہیں تو پھر ہمیں کیا تعجب ہے مگر یہ ضرور ہے کہ جو شخص حق کی تائید کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔وہ جھوٹ بولنے کی جرات نہیں کرتا۔کیونکہ جھوٹ ہر حالت میں جھوٹ ہی ہے۔خواہ سچ کی تائید کے لئے ہی کیوں نہ بولا جائے۔ہم تو حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کا نبی اور برگزیدہ مانتے ہیں کیا ہم مانتے ہوئے آپ کو نادان کہہ سکتے ہیں۔ہاں وہ جو آپ کے درجہ کو گھٹا رہے ہیں وہ ایسا کہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے چنانچہ وہ اب اپنے ہادی اور مرشد کو ” ایک شخص ایک شخص ایسے حقارت آمیز الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو حق دکھائے جو اس بات کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ہم کو حق سے پھیر کر باطل کی طرف لے جائیں۔اللہ تعالیٰ ان کو نشان پر نشان دکھاتا ہے مگر باوجود اس کے جس طرح ایک کیمیا گر ایک آنچ کی کسر سمجھتا ہے اسی طرح وہ ایک بار اور کوشش کی کمی سمجھتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اب ان کو توڑ دیں گے۔چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ مسیح موعود کی جماعت کو سب پر غالب رکھے گا اس لئے ان کی کوششوں سے ہمیں کوئی فکر نہیں مگر دل چاہتا ہے کہ وہ جو کبھی ہمارے تھے ان کو بھی خدا حق قبول کرنے کی توفیق دے اور وہ پھر ہمارے ہو جائیں۔اور اس طرح ہمارے راستہ سے یہ روک بھی دور ہو جائے اور ہم اپنا فرض پوری توجہ سے ادا کرسکیں۔الفضل ۲۷ جون ۱۹۱۲ء)