خطبات محمود (جلد 5) — Page 110
خطبات محمود جلد (5) 11۔16 جماعت کی برکات (فرموده ۲۶ رمئی ۱۹۱۶ء) مجھے افسوس ہے کہ پچھلا خطبہ جمعہ قلمبند نہ کیا جاسکا جو نہایت اہم نصائح پر مبنی تھا۔اور جس میں حضور نے جماعت کو بتلایا تھا کہ جب تک اس کے تمام افراد کام میں نہ لگ جائیں گے اور تمام ان ذرائع سے کام نہ لیں گے جو کسی مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس وقت تک کامیابی نہیں ہوسکتی۔پھر اسی سلسلہ میں جماعت قادیان کو بالخصوص نصیحت فرمائی کہ وہ ایثار اور کام میں انہماک کا نیک نمونہ دکھا ئیں۔یہاں اور قرب و جوار کے لوگوں سے تعلقات محبت قائم کریں انہیں اپنے کاموں اور تجویزوں میں شریک کر کے رشتہ اتحاد مضبوط کریں۔بہر حال یہ خطبہ بھی اسی پچھلے خطبہ کے سلسلے میں ہے“۔(ایڈیٹر ) تشهد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر فرمایا:- بہت لوگوں نے مختلف مواقع پر ہجوم دیکھے ہوں گے۔ہر علاقہ میں قریبا میلے ہوتے ہیں جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں۔مسلمانوں کے لئے تو ہر جمعہ کو ہجوم ہوتا ہے۔پھر ہر سال میں عیدین کے موقعہ پر تمام اردگرد کے لوگ بھی اکٹھے ہوتے ہیں۔غرض ہر علاقہ اور ہر ملک کے لوگوں میں مختلف طرز پر کہیں مذہبی رنگ میں اور کہیں دنیاوی رنگ میں اجتماع مخلوق ہوتا ہے۔ایسے موقع پر جب کبھی جگہ تنگ ہوتی ہے تو یہ بات پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ لگ جاتے ہیں کہ گویا ایک دیوار بنی ہوئی ہے۔پھر جب وہ ہجوم کسی طرف چلتا ہے تو تمام لوگ آپس میں ایسے چپکے ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے۔اور تمام چھوٹے بڑے کمزور طاقتور سب آگے ہی آگے بڑھے جاتے ہیں چونکہ ہر ایک انسان اس ہجوم میں پھنسا ہوا ہوتا ہے اس لئے وہ چلنے سے رُک