خطبات محمود (جلد 5) — Page 82
خطبات محمود جلد (5) ۸۲ تا کہ جسم قائم رہے ایسے وقت میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جائے گا کہ روح کو کسی قدر نقصان پہنچے گا۔بلکہ یہ مد نظر ہو گا کہ جسم سلامت رہ سکے پس یہ صرف کھانے پینے کے متعلق مضطر کے لئے اجازت ہے ورنہ اگر ہر ایک بات میں مضطر کو اجازت ہوتی تو کوئی بھی گناہ گناہ نہ کہلا سکتا۔تم اس بات کو خوب یا درکھو۔حضرت مسیح موعود سے بھی بار ہا سود کے متعلق پوچھا گیا۔آپ نے ہر دفعہ منع فرمایا۔وہی لوگ جواب ہم سے علیحدہ ہو گئے ہیں انہیں میں سے ایک نے دفتر سیکریٹری میں بیٹھے ہوئے حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ایک دفعہ کہا۔”واہ اومر زیا۔لوکاں نے بھی بڑا زور لگایا کہ سود جائز ہو جائے پر تو نے نہ ہی ہون دیتا۔یعنی لوگوں نے ( یہ لوگوں کا لفظ محض پردہ کے لئے تھا ورنہ وہ زور مارنے والے بھی وہیں موجود تھے ) بڑا زور مارا کہ کسی طرح سود جائز ہو جائے لیکن آپ نے ہرگز اجازت نہ دی۔سود لینا اور دینا دونوں کو برا بر گناہ فرمایا۔شریعت کوئی ٹھٹھا نہیں ہے کہ ہر ایک انسان استنباط کرنے لگ جائے۔وہ لوگ جنہوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اضطرار کے وقت سود جائز ہے۔جب انہیں معلوم ہوگا کہ اضطرار کے ساتھ مخمصہ کا لفظ ہے تو انہیں اپنی غلطی معلوم ہو جائے گی۔لوگوں نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ایک بات کے جواز کے لئے جو سبب ہو وہی اگر دوسری جگہ پایا جائے تو اس کے جائز ہونے کا قیاس ہو سکتا ہے۔مگر ایسا ہوسکتا ہے کہ دوسری جگہ سبب ہی اور ہو اور سمجھا اور جائے اوّل تو قرآن کریم کے احکام میں قیاس کا دخل نہیں ہے اور اگر دخل بھی ہو تو قرآن کریم کے الفاظ پر خوب غور و فکر کرنا چاہیئے۔یہ اجازت کھانے پینے کے متعلق ہے نہ کہ ہر ایک بات کے لئے۔ایک جگہ قرآن کریم میں کفر کے متعلق بھی فرمایا ہے۔مگر یہ پسندیدہ امر نہیں فرمایا۔اگر کوئی بہت تو بہ اور استغفار کرے گا تو اس کا گناہ معاف ہوگا اور یہ اسلئے فرمایا کہ ایسی حالت میں وہ اسلام سے نکل جاتا ہے ہاں اسکی تو بہ قبول ہو سکتی ہے اور یہ دروازہ ہر وقت کھلا ہے گو یا اجازت وہاں بھی نہیں دی گئی۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اور دوسروں کو بھی سمجھ دے تا وہ قرآن کریم کے الفاظ پر غور کریں اور اس کے احکام کی حکمت اور منشا کو سمجھیں اپنے ارادہ اور خواہش کے مطابق اس کے الفاظ کو بگاڑ کر اور مطلب نہ نکالیں۔(الفضل ا ا ر ا پریل ۱۹۱۶ء)