خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 81

خطبات محمود جلد (5) Al ہیں جو مفلس اور کنگال ہوتے ہیں اور اضطراب کی حالت میں ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی کسی کو قتل کرتا ہے تو اسی لئے کہ مقتول کی وجہ سے اسے کسی نہ کسی قسم کا اضطرار ہوتا ہے۔غرضیکہ ہر ایک گناہ کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ اضطرار کے وقت کیا گیا ہے۔یہی سود کا حال ہے۔تجارت کرنے کے لئے تو اب دوسو برس سے سود لیا یا دیا جاتا ہے اس سے پہلے تو یہ بھی اضطرار ہی کی حالت میں لیا جاتا تھا کسی شخص کو جب کہیں سے قرضہ نہ ملتا اور ضرورت سے مجبور ہو جاتا۔تو سود پر روپیہ لے لیتا۔ورنہ کسی کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ اپنے پاس روپیہ ہوتے ہوئے یا بغیر سخت مجبوری کے کچھ روپیہ لے کر اس سے زیادہ دیتا۔تو سود بھی جائز ہو گیا اور قرآن کریم نے جو یہ حکم دیا تھا کہ نہ لیا کرو۔وہ نعوذ باللہ لغو ہو گیا۔کیونکہ جب سود دیتا ہی وہ ہے جو مضطر ہو۔اور مضطر کے لئے جائز ہے کہ ایسا کرے تو پھر اس سے منع کرنے کے کیا معنی۔لیکن یا درکھو کہ قرآن کریم نے انہی چیزوں کی اضطرار کے وقت اجازت دی ہے جو کھانے پینے کے متعلق ہیں۔چنانچہ اس آیت میں صاف طور پر فرمایا ہے کہ فَمَنِ اضْطَرَّ فِي مَخْمَصَةِ یعنی ایسا اضطرار جو بھوک کی وجہ سے ہو اس کے لئے اجازت ہے نہ کہ ہر ایک اضطرار کے وقت ہر ایک نہی روا ہو سکتی ہے۔وہ چیزیں جو کھانے کے متعلق ہیں ان کی تو اسلام نے اضطرار کے وقت اجازت دے دی ہے مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر اضطرار ہو تو چوری بھی کر لو یا کوئی اور کسی قسم کا فعل کر لو۔فقہاء نے یہ تو اجازت دی ہے کہ اگر علاج کے لئے شراب کی ضرورت پڑے تو مریض کو استعمال کرا دو۔مگر یہ کہیں اجازت نہیں دی کہ اگر کسی کی زندگی سے تمھیں اپنی جان کے متعلق اضطرار ہو تو اسے قتل کر دو۔پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ اضطرار کے وقت کوئی ایسی چیز جائز ہوسکتی ہے جس کا اثر براہ راست روح پر پڑتا ہے یا جو کھانے پینے کے متعلق نہیں ہے۔البتہ ایسے وقت میں ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دی گئی ہے جو روح سے براہ راست تعلق نہیں رکھتیں یا ایسے گناہ جن کا تعلق انسان کا اپنے سے نہیں ہوتا۔بلکہ اس کے ذریعہ دوسروں کا تعاون پایا جاتا ہے اور یہ بھی کھانے پینے ہی کے متعلق ہیں اور یہ اجازت اس لئے ہے