خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 604

خطبات محمود جلد (5) ۶۰۳ دیکھنا یہ ہے کہ جب اسلام پر کوئی مصیبت آتی ہے۔تو کون ہے جس کے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔اور جس کا قلب درد محسوس کرتا ہے۔اور اپنی جان تک اس راہ میں لڑا دیتا ہے۔اسی ایک معیار سے ہمارا اور ان کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔اور پتہ لگ سکتا ہے کہ اسلام سے تعلق ان کا ہے یا ہمارا۔جس طرح حضرت سلیمان نے ایک جھگڑے کا فیصلہ کیا تھا۔اسی طرح ہمارے اور انکے جھگڑے کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔دوعور تیں تھیں۔جن میں سے ایک کے بچہ کو بھیڑیا کھا گیا تھا۔اور دوسری کا بچ گیا تھا۔جس کے بچہ کو بھیڑیا کھا گیا تھا۔اس نے دوسری سے کہا کہ میرا بچہ تو زندہ ہے۔تیرے بچہ کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔اس پر دونوں میں جھگڑا شروع ہوا۔قاضیوں کے پاس مقدمہ گیا۔مگر کچھ فیصلہ نہ کر سکے۔حضرت سلیمان نے کہا کہ میں اس کا فیصلہ فوراً کئے دیتا ہوں۔ایک چھری لاؤ۔آدھا آدھا دونوں کو کاٹ کر دے دوں گا۔یہ سن کر ایک عورت نے کہا کہ آپ ایسا نہ کریں۔اسی کو بچہ دیدیں۔مگر دوسری خاموش رہی۔حضرت سلیمان نے کہا۔کہ یہ اسی عورت کا بچہ ہے جو کہتی ہے کہ دوسری کو دید ہیں۔کیونکہ اسکو درد پیدا ہوا ہے اور اس نے سمجھا ہے کہ اگر بچہ کٹ جائے گا تو میرا کٹے گا۔اس کا تو پہلے ہی مر چکا ہے۔لیکن اگر وہ لے لیگی تو زندہ تو رہے گا۔اس پر بچہ اسے دیدیا گیا!۔اسی طرح کا ہمارا اور ان کا جھگڑا ہے۔وہ بھی اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔اور ہم کہتے ہیں کہ اسلام ہمارا ہے۔اب فیصلہ کر نیوالی بات یہ ہے کہ دیکھا جائے۔کون ہے وہ جو اس وقت جبکہ اسلام کو مٹانے کیلئے دنیا بڑھتی ہے اپنی گردن آگے رکھ دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ پہلے میرے سر کو دھڑ سے الگ کر دو پھر اسلام پر حملہ کرنا۔اور کون ہے وہ جس کو خبر تک بھی نہیں ہوتی۔صاف بات ہے۔ہمارے فریق مقابل کے بڑے بڑے سیٹھوں اور امیروں کو دیکھو۔ان کے صوفیوں اور پیروں کو دیکھو کہ اسلام کی راہ میں کیا خرچ کر رہے ہیں۔اور پھر اس کے مقابلہ میں ہماری جماعت کے غریب سے غریب لوگوں کو دیکھو۔اور انکی طرف نظر کرو۔جنہیں دو وقت پیٹ بھر کر کھانے کو بھی میسر نہیں۔کہ دین کے راستہ میں کس خوشی اور محبت سے جو کچھ بھی ان سے ہو سکتا ہے دینے سے دریغ نہیں کر رہے۔- صحیح بخاری کتاب الفرائض باب اذا ادعت المرأة ابناً