خطبات محمود (جلد 5) — Page 605
خطبات محمود جلد (5) ۶۰۴ اگر ان مسلمان کہلانے والوں کو بھی اسلام سے کچھ تعلق ہوتا تو کیوں ان کو اسلام کی ایسی حالت دیکھ کر جوش نہ آتا۔لیکن بات یہ ہے کہ ان کی حالت اس مخلص کی مانند ہو گئی ہے جو جانتا ہے کہ پانی موجود ہے اور اس میں تریاق ملا ہوا ہے۔لیکن وہ اس کو پیتا نہیں۔کیونکہ اس کی شامت اعمال حائل ہوگئی ہے۔پس یہ زیادہ عتاب کے نیچے ہیں۔انہوں نے خدا سے منہ پھیر لیا۔خدا نے ان سے اسلام کی خدمت کی توفیق ہی چھین لی۔جو شخص خدا کے پسندیدہ اور اس کے مامور انسان کی پروانہیں کرتا۔خدا کو اس کی پروا نہیں۔اسلئے انکو خدمت اسلام کی توفیق ہی نہیں ملتی۔سوچنے والے سوچیں۔اس میں ہمارے سلسلہ کی حقانیت کا کتنا بڑا ثبوت ہے۔یہ لوگ ہمارا نام و نشان مٹانا چاہتے ہیں۔مگر ہمیں ان سے ہمدردی ہے۔اور ہم انکے لئے دعا ہی کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے بھی فرمایا ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کا خر کنند دعوی حبّ پیمبرم یہ لوگ آخر قر آن اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔اسلئے ہم ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ خدا یا ان کی آنکھیں کھول۔تا اس سورج کو دیکھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں جو تُو نے انہی کے فائدہ کیلئے چڑھایا ہے۔اور اس جبل کو تھام لیں جو تو نے ڈوبتوں کو غرق ہونے سے بچانے کیلئے بھیجا ہے۔( الفضل اار دسمبر ۱۹۱۷ء)