خطبات محمود (جلد 5) — Page 599
خطبات محمود جلد (5) ۵۹۸ کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔وہ اس پانی کو نہ پینے۔اور پیاس کی وجہ سے ہلاک ہو جانے کے باعث قابلِ علامت ہوگا۔لیکن ایک دوسرا شخص جس کو یقین ہو کہ اس پیالہ کا پانی خالص ہے اور اس میں کسی قسم کی آمیزش نہیں اور اس کو پیاس بھی ستا رہی ہو۔اور وہ اسکو اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔یا پتا نہیں۔تو پہلے کی نسبت زیادہ قابل ملامت ہے۔یا مثلاً گورنمنٹ کا کوئی عہدیدار ہو اور کوئی چور اس کی نگرانی میں رکھا گیا ہو۔اور وہ چور بھیس بدل کر وہاں سے نکل بھاگے تو اس عہدہ دار سے ضرور مؤاخذہ ہوگا۔مگر ایک دوسرا عہدہ دار ہواس کے سپر د بھی کوئی چور کیا گیا ہو۔اور چور بغیر بھیس بدلنے کے وہاں سے نکل جائے۔تو یہ افسر پہلے کی نسبت زیادہ زیر عتاب ہوگا۔یہی حال خدا تعالیٰ کے حضور مسلمان کہلانے والوں اور غیر مذاہب کے لوگوں کا ہے غیر مذا ہب کے لوگ تو ایسے ہیں کہ ایک سورج چڑھا اور انہوں نے خیال کیا کہ اس سورج کا وجود ہمارے لئے مضر ہے۔اس لئے وہ اپنے مکانوں میں گھس گئے اور اپنے کواڑ اور کھڑکیاں بند کر لیں تا اسکی روشنی اندر نہ آسکے۔تا کہ ایسا نہ ہو جس سے ہماری نظر کو نقصان پہنچے۔انہوں نے کافی سمجھا کہ ہمارے پاس جو دیئے ہیں۔انہیں میں اپنا تیل ڈالیں گے اور کام کرتے رہیں گے۔اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں نے غلطی کی۔اور بے وجہ خیال کیا کہ سورج سے ہماری آنکھیں چندھیا جائیں گی۔اور ہمارے کام میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔اس غلطی کے باعث ضرور ان سے پوچھا جائے گا۔لیکن مسلمانوں کی حالت ان کے برعکس ہے یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے سورج کو چڑھا ہوا دیکھ کر پرانے اور بوسیدہ چراغوں کو گل کر دیا اور سورج کے نیچے آ جمع ہوئے۔مگر اسکی روشنی سے فائدہ نہ اٹھایا بلکہ اپنی آنکھوں کو بند کر لیا۔جس کے باعث ان کے کام کاج بند ہو گئے۔مگر دل میں اسلام کے نور کو داخل نہ ہونے دیا۔اس لئے یہ لوگ پہلوں کی نسبت زیادہ زیر عتاب ہیں۔اسلام کے سوا باقی سب مذاہب میں ایسے لوگ ہیں جو دین کی باتوں سے حتی کہ خدا تعالیٰ پر بھی ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے وہ لوگ