خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 595

خطبات محمود جلد (5) ۵۹۴ یا زیادہ تو جس طرح لا إله إلا الله کے اندر محمد رسول اللہ شامل ہے۔اسی طرح ان دونوں جملوں میں اسلام کی ساری تعلیم داخل ہے۔مگر بہت لوگ ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ صرف ان دو جملوں کے کہہ دینے سے اور اسلام کی باقی تعلیم پر عمل نہ کرنے سے بھی انسان مسلمان ہوسکتا ہے۔حالانکہ انہیں دو جملوں میں اسلام کی ساری تعلیم شامل ہے۔اور اسلام کی کوئی بات ایسی نہیں جس کا ثبوت ان سے نہیں ملتا۔اس زمانہ میں کلمہ شہادت پر غور نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں جہاں اور بہت سی کمزوریاں پیدا ہو گئی ہیں۔وہاں ایک نہایت خطرناک برائی بھی پیدا ہوگئی ہے۔جس کا رڈ اسی کلمہ سے ہوسکتا ہے۔اور وہ برائی یہ ہے کہ آجکل ان سے جتنے فعل سرزد ہو رہے ہیں۔وہ یا تو دوسروں کے خوف سے ہو رہے ہیں یا اپنے طمع اور لالچ کی وجہ سے وہ کوئی کام کرنے لگیں۔اس میں یہ دیکھیں گے کہ دوسرے ہمیں کیا کہیں گے۔اور بجائے اس کے کہ وہ یہ دیکھتے کہ جو کام کرنے لگے ہیں۔وہ حق ہے یا نہیں۔یہ دیکھیں گے کہ اس کے کرنے پر دوسرے ہمارے متعلق کیا رائے قائم کریں گے۔آیا اچھا کہیں گے یا برا۔یہ بات ان کے تمام کاموں میں نظر آتی ہے خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ حق اور راستی کیا ہے بلکہ دوسروں کے خوف اور ڈرکو دیکھتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ یہ لوگ بہت سی باتیں محض اس لئے قبول نہیں کرتے کہ لوگ ہمیں برا کہیں گے۔حالانکہ ان کے حق ہونے میں انہیں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا اور اس طرح دین کی باتوں کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے ایمان کو اور دنیاوی باتوں کے اختیار نہ کرنے کی وجہ سے دنیاوی حقوق کو برباد کر رہے ہیں۔اور یہ بُرائی ان کے دلوں میں ایسی گڑ گئی ہے کہ وہ حق کو چھوڑ دینا آسان سمجھتے ہیں۔لیکن لوگوں کی ناراضگی سے ڈر کر ناحق کو ترک کرنا بہت مشکل خیال کرتے ہیں۔حالانکہ وہ لا إله إلا اللہ کہہ کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقابلہ میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کریں گے۔اور سب کو چھوڑ دیں گے۔لیکن جب وہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق کو چھوڑتے اور ناحق کو اختیار کرتے ہیں تو انکے متعلق کس طرح کہا جا