خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 49

۴۹ 7 خطبات محمود جلد (5) ہماری جماعت صفات الہیہ کی مظہر بنے فرموده - ۳/ مارچ ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ جن خوبیوں اور جن صفات حسنہ کا مالک ہے۔کوئی بھی نظیر ان کی کسی اور جگہ نہیں ملتی۔لیکن وہ خدا ہے۔اور باقی مخلوق۔اس لئے مخلوق میں جو صفات اور خوبیاں ہوں گی وہ سب اس خدا ہی کی ہوں گی۔اور اس کی صفات کا ظل ہوں گی۔پس خدا تعالیٰ میں جو صفات اور خوبیاں اور حسن ہے انسان میں اس کا خلق ہے۔انسان ان صفات پر اور ان خوبیوں پر اور اس حسن پر جو اس میں ہیں خدا تعالیٰ کی صفات کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔کیونکہ انسان جو کچھ دیکھتا ہے اس کا اندازہ لگا سکتا ہے اس لئے اس جگہ انسان جو بھی اندازہ لگائے گا۔وہ غلط ہو گا۔کیونکہ یہ اس ظل پر جو اس نے دیکھا ہے اس خدا کی صفات کا جس کی صفات کا یہ ظل ہیں خیال کرے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کو الحمد سے شروع کیا۔محمد سے شروع نہ کیا تا کہ بتا دے کہ جس قدر بھی خوبیاں اور صفات ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ میں جمع ہیں اسی لئے تو وہ ہر طرح کی کامل حمد کے لائق ہے۔لیکن دنیا میں ایسے لوگ بہت ہیں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کے عیوب جمع کرتے ہیں اس کو زبان سے نہیں تو اعمال سے یا دیگر عقائد سے بے قدرت تسلیم کیا جاتا ہے۔اس کو جھوٹا کہا جاتا ہے اس کو مجبور ظالم اور بے رحم گردانا جاتا ہے۔غرض طرح طرح کے الزام خدا پر لگائے جاتے ہیں۔یہ الزام اس کے نہ ماننے والوں کی طرف سے نہیں بلکہ ماننے والوں اور اس کی ہستی کا اقرار کرنے والوں کی طرف سے ہیں۔وہ ان الزامات کو سمجھتے ہیں کہ یہ اس کے صفات ہیں اس لئے وہ ان کو بھی اسی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ایک مسلمان جو الحمد للہ کہنے والا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ ان تمام بدیوں اور الزامات کو جو اللہ تعالیٰ پر لگائے جاتے ہیں اور اس کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں دُور کرے۔