خطبات محمود (جلد 5) — Page 50
خطبات محمود جلد (5) نبی اور مامور اسی غرض کے لئے دنیا میں آتے ہیں تا وہ ان الزامات اور بدیوں کو جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی گئی ہیں دور کریں سچے سلسلہ کی یہی نشانی ہے کہ اس کے ماننے والے ان الزامات کو دور کریں۔جس طرح حضرت نوع کی آمد حضرت ابراہیم کی آمد حضرت موسیٰ حضرت عیسے اور ہمارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے نبیوں کی آمد جو مختلف ملکوں میں مختلف اوقات میں مبعوث ہوئے اسی لئے ہوئی کہ وہ ان الزامات کو جو لوگوں نے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر چھوڑے تھے دور کریں۔اسی طرح ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی غرض کے لئے بھیجے گئے۔جس طرح پہلے نبیوں کی جماعتیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے اسی غرض کے لئے قائم کی گئیں اسی طرح ہماری جماعت بھی اسی غرض کے لئے قائم کی گئی ہے۔پس جس طرح ان لوگوں نے جو پہلے نبیوں کی جماعت سے تھے اپنا فرض ادا کیا۔اسی طرح ہمارا بھی فرض ہے کہ ہماری کوششیں مختلف طریقوں سے اور محنتیں چھوٹی ہوں یا بڑی اسی غرض کے لئے ہونی چاہئیں۔ہمارے لئے فرما یا کہ تم خدا سے مدد مانگو اس سے دعا کرو کیونکہ تم خود کوئی چیز نہیں کہ اس کام کو بجالاؤ۔ہاں خدا سے دعا کرو تم ایک تلوار کی طرح سے ہو۔جب خدا اس تلوار کے قبضے کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس تلوار کو چلائے گا تو وہ تلوار جس پر پڑے گی اس کو کاٹتی چلی جائے گی۔ہمارا جلسہ اسی غرض کیلئے دہلی میں قرار پایا ہے۔دعا کرو کہ خدا تعالیٰ اس جلسے کو کامیاب کرے۔حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ دہلی میں ولیوں۔بزرگوں۔شہیدوں اور صالح لوگوں کی بہت ہی قبریں ہیں۔حتی کہ جس قدر پاک لوگ اس خاک میں مدفون ہیں زندوں سے زیادہ ہوں گے۔ان کی روحیں حق کے ظہور کے لئے تڑپ رہی ہیں وہاں یہ سلسلہ ضرور پھیلے گا۔حضرت مسیح موعود جب دہلی تشریف لے گئے تھے۔تو وہاں کی جماعت نے عرض کیا کہ یہاں کے لوگ بالکل پرواہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ارے میاں ! اگر مسیح نے ہندوستان ہی میں آنا تھا تو پھر دہلی میں آتا نہ کہ پنجاب کے کسی گاؤں میں۔جہاں بات کرنے کا بھی سلیقہ نہیں گویا وہ لوگ الحمد للہ کی بجائے الحمد لدھلی کہا کرتے یعنی تمام خوبیاں وہ دہلی میں جمع کرتے ہیں