خطبات محمود (جلد 5) — Page 537
خطبات محمود جلد (5) ۵۳۶ تمہیں کم از کم سات سو گنا ہو کر ملے گا۔اور اس سے زیادہ کی کوئی حد بندی نہیں۔پھر حضرت مسیح کہتے ہیں کہ وہاں غلہ کوکوئی کیڑ انہیں کھا سکتا۔مگر قرآن کہتا ہے کہ صرف کیڑے سے ہی محفوظ نہیں رہتا۔بلکہ ایک سے سات سو گنا بڑھ بھی جاتا ہے۔ہمیں کیا کرنا چاہیے: ہمارا زمانہ ایسی قربانی کا نہیں کہ جنگ کریں اور جان دیں۔ہاں اس طرح جانی قربانی بھی ہو سکتی ہے کہ کوئی محض اپنا وقت خرچ کرے محنت اٹھائے۔یا جس طرح ہمارے دو بزرگ کابل میں مارے گئے یا بعض کو اپنے وطن چھوڑنے پڑے اور یہاں آکر آباد ہوئے۔یہاں کیلئے برکتوں کا وعدہ ہے مگر اس میں اس طرح ہجرت کر کے آنا جس طرح مدینہ میں حکما ہجرت کرنا پڑی تھی فرض نہیں ہے۔ہاں اگر کوئی ہجرت کر کے آئے تو اس کے لئے بہت برکت کا موجب ہوگا۔پس خوب یا درکھو اس وقت صرف ایک ہی راستہ کھلا ہے۔اگر وہ بھی بند ہو گیا تو پھر کوئی رستہ نہیں جس سے تمہیں دین کی خدمت کے لئے بلایا جائے۔حضرت صاحب نے ایک کام شروع کیا اسکی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔آپ نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھا ہے کہ ہم نے جو دینی اور تبلیغی کام شروع کئے ہیں ہماری جماعت کا فرض ہے کہ چندوں سے اسکی مدد کرے۔کیونکہ اس لئے کہ آپ کے وقت میں بڑی خدمت روپیہ کا خرچ کرنا ہی ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود نے ان شرائط کے علاوہ جو شریعت نے مقرر کی ہیں صرف چندوں کے متعلق ہی لکھا ہے کہ جو شخص تین مہینہ تک چندہ نہ دے وہ میری جماعت سے نہیں ہے۔تو آجکل جان نہیں مانگی جاتی۔مہینہ کے بعد چندہ طلب کیا جاتا ہے۔کیونکہ آجکل یہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔غور کر و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صرف ایک آدمی تھے۔مگر خدا نے انکو اس قدر برکت دی۔اب آپ کے نام پر فدا ہو نیوالے کتنے ہیں۔اور دین کی خدمت کرنے والے کس قدر۔اس میں شک نہیں کہ ہماری جماعت دین کی خدمت کے لئے جو کچھ کر رہی ہے وہ دوسروں کے مقابلہ میں بہت بڑھ کے ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ اس قدر ہے جس قدر کہ ہماری جماعت کو کرنا چاہئیے۔اس کے متعلق کہنا پڑتا ہے کہ دوسرے مذاہب