خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 536

خطبات محمود جلد (5) ۵۳۵ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا کس قدر بڑھتا ہے: خدا تعالیٰ فرماتا ہے:مثل الذین ينفقون (الآیۃ ) وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں انکی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی دانہ کھیت میں ڈالا جائے اور وہ دانہ سات بالیں نکالے اور ہر بال میں سنتو دانہ ہو گویا ایک دانہ سے سات سو گنا پیدا ہوا۔یہ ایک مثال ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے والله يضعف لمن یشاء اللہ تعالیٰ اس سے بھی بڑھا کر دیتا ہے اور اس سے بھی زیادہ بڑھا تا ہے۔خدا کی طرف سے دینے میں بخل تو تب ہو جبکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کی کمی ہو۔واللہ واسع۔اللہ بڑی وسعت بڑی فراخی والا ہے۔اور پھر اللہ علیم ہے وہ جانتا ہے کہ یہ شخص کس قدر انعام کا مستحق ہے۔اگر کوئی کروڑوں گنے کا بھی مستحق ہو تو بھی اللہ تعالیٰ اس کے خرچ کئے ہوئے کو اس کے لئے بڑھا دیگا۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب زمیندار دانہ زمین میں ڈال دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسکو بڑھا کر دیتا ہے تو جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا کیسے ممکن ہے کہ اس کا خرچ کیا ہوا ضائع جائے۔اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے کا تو کم از کم سات سو ملتا ہے اور اس سے زیادہ کی کچھ حد بندی ہی نہیں۔اگر انتہائی حد مقرر کر دی جاتی تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھی محدود ماننا پڑتا۔جو خدا تعالیٰ میں ایک نقص ہوتا۔اس لئے فرمایا کہ تم خدا کی راہ میں ایک دانہ خرچ کرو گے تو کم از کم سات سو دانہ ملے گا۔اور زیادہ کی کوئی حد نہیں جتنا بھی مل جائے تو خوب یا درکھو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ضائع کرنا نہیں بلکہ بڑھانا ہے۔حضرت مسیح ناصری نے فرمایا ہے کہ اپنے مال کو وہاں جمع کرو جہاں کوئی چور چرا نہیں سکتا۔اور غلہ کو وہاں رکھو جہاں کوئی کیڑا کھا نہیں سکتا !۔یہ حضرت مسیح نے اپنے رنگ میں اچھی بات کہی ہے۔مگر قرآن کریم ان سے بڑھ کر کہتا ہے۔انہوں نے صرف یہ فرمایا ہے کہ تم اگر خدا کے خزانہ میں جمع کرو گے تو کوئی چرا نہیں سکے گا۔لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم خدا کے خزانہ میں جمع کرو گے تو یہی نہیں کہ کوئی اس کو چرائے گا نہیں بلکہ امتی ۲/۲۰