خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 535

خطبات محمود جلد (5) ۵۳۴ اور ان انبیاء کو کمزوری کی حالت سے بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔اس وقت دنیا معلوم کرتی ہے کہ خدا ہے۔جس کے آگے کوئی کام ان ہونا نہیں۔ثواب کا اعلیٰ موقعہ : ایسے انبیاء کے وقت انکی اُمتوں کو موقعہ دیا جاتا ہے کہ وہ جس طرح بھی ہو سکے دین کی خدمت کریں۔چونکہ وہ وقت تعمیر قوم کا وقت ہوتا ہے اس لئے لوگوں کو مقابلہ کا موقعہ دیا جاتا ہے۔اور وہی ثواب کا وقت ہوتا ہے۔کیونکہ ابتداء میں جبکہ انبیاء کمزور نظر آتے ہیں جو لوگ ان کو قبول کرتے ہیں وہ سب انعام کے وارث ہو جاتے ہیں۔وہ لوگوں کو ایمان کی طرف بلاتے ہیں اور ایمان کے ساتھ ان کو روحانی طاقت وقوت ملتی ہے۔یہ محض خدا کا فضل ہے۔اور انسان کا اس میں نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسان خدا کی راہ میں خرچ کر کے ضائع نہیں کرتا۔بلکہ اس کو اور زیادہ ملتا ہے۔صحابہ کرام کی مثال : صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اپنے وطن کو چھوڑا ان کو ان کے وطن سے بہتر وطن ملا۔مکان چھوڑے ان سے بہتر مکان ملے۔بہن بھائی چھوڑے انکو بہتر بہن بھائی ملے۔اور انہوں نے اپنے ماں باپ کو چھوڑا انہیں کروڑوں ماں باپ سے بہتر محبت کر نیوالے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔تو خدا کی راہ میں چھوڑنے والا ضائع نہیں کرتا بلکہ اسکو بہت بہت بڑھ چڑھ کر واپس ملتا ہے۔یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اسمیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مثل الذين ينفقون فى سبيل الله كمثل حبّة انبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبّة ط والله يضعف لمن يشاء والله واسع علیم۔خدا کے رستے میں جس طرح اور چیزیں خرچ کی جاتی ہیں۔اسی طرح مال خرچ کرنے کے بھی موقعے پیش آتے ہیں۔لیکن کسی کو مال پیارا ہوتا ہے۔کسی کو جان عزیز ہوتی ہے۔کسی کو عزت و آبرو کا پاس ولحاظ ہوتا ہے۔اس لئے مومن کی ہر طرح کی آزمائش ہوتی ہے۔اور جس طرح کا انسان ہو اسکی اسی طرح کی آزمائش ہوتی ہے۔اگر کسی کو مال پیارا ہو تو وہ مال خرچ کرے۔اگر کسی کو جان عزیز ہوتو وہ جان کو قربان کرے تا کہ معلوم ہو کہ اس کا ایمان اس قدر مضبوط ہے کہ خدا کی راہ میں پیاری سے پیاری چیز خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔