خطبات محمود (جلد 5) — Page 534
۵۳۳ 70 خطبات محمود جلد (5) اللہ کی راہ میں خرچ کرو (فرموده ۱۰ اگست ۱۹۱۷ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی۔ مثل الذين ينفقون اموالهم فى سبيل الله كمثل حَبَّةٍ انبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبة والله يضعف لمن يشاء والله واسع (البقره: ۲۶۲) عليم۔ بعد ازاں فرمایا :- اللہ تعالیٰ کی یہ سنت قدیم سے چلی آتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ترقی مدارج کے لئے زیادہ سے زیادہ سامان پیدا کرتا رہتا ہے۔ خدا تعالیٰ کسی بات کا محتاج نہیں ۔ وہ غنی ہے۔ ہاں لوگ اسکے محتاج ہیں ۔ پس وہ بندوں کو اگر کوئی کام کرنے کا موقعہ دیتا ہے تو اس لئے نہیں کہ اس کو ضرورت ہے ۔ بلکہ وہ ان پر رحم کرنا چاہتا ہے۔ اس سنت کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی آتے رہے ہیں ۔ اور وہ دو قسم کے تھے۔ اوّل وہ جو ایک ستون کے طور پر ہوتے تھے کہ عمارت کے قیام اور سہارے کیلئے ان کو نیچے کھڑا کر دیا جاتا تھا۔ مثلاً حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام وغیرہ ۔ان کے سپر دصرف جماعت کو سنبھالنے کا کام ہوتا تھ ہوتا تھا۔ لیکن جو دوسری قسم کے انبیاء ہو ۔ باء ہوتے ہیں ۔ ان کو نئے سرے سے جماعت قائم کرنا پڑتی تھی ۔ مثلاً حضرت مسیح ناصری ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے حضرت مسیح موعود۔ ان کی ابتداء ایسی ہوتی ہے کہ دنیا انکو د یکھ کر خیال نہیں کر سکتی کہ یہ لوگ بھی دنیا کے لئے کچھ مفید ثابت ہوں گے ۔ مگر خدا ان کے ذریعہ دنیا کی حالت کو درست کر دیتا ہے ۔