خطبات محمود (جلد 5) — Page 527
خطبات محمود جلد (5) ۵۲۶ مامور کے ذریعہ خدا کی رحمت آئی ہے۔پس ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاؤ۔تمام باتوں میں قناعت کرو۔مگر نیکی کے حصول میں کبھی قناعت نہ کرو۔اور یہ ہرگز مت خیال کرو کہ اب بہت کچھ ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھو کہ دنیا کے متعلق تو یہ کہ مال آتا ہے تو انصار کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے بھائی مہاجرین کو دیدیا جائے۔مگر نیکی کے معاملہ میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ انصار نے کہا ہو مہاجرین ہی کر لیں یا مہاجرین کہیں کہ انصار ہی کر لیں یا فلاں کرلے۔ہم نے بہت کچھ کر لیا ہے۔بلکہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چندہ کے متعلق فرمایا تو حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے خیال کیا کہ ہمیشہ ابوبکر صدقات میں بڑھ جاتے ہیں۔آج میں ان سے بڑھ جاؤں گا۔میں اپنا نصف مال لے جاؤں گا۔چنانچہ میں اپنا نصف مال لے گیا۔مگر حضرت ابوبکر اپنا تمام اثاثہ لے گئے۔میں جی میں شرمندہ ہوا ہے۔اسی طرح جنگ خیبر کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو خدا سے پیار رکھتا ہے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی میرے جی میں نہیں آیا تھا کہ نبی کریم کے آگے بڑھ کر بیٹھوں۔لیکن اس وقت میں اُچھل کر آنحضرت کے آگے آگرا تا کہ حضور مجھ کو دیکھ لیں کہ میں موجود ہوں۔اور شاید جھنڈا مجھے ہی دیدیں سے تو نیکی میں قناعت اور سستی اور کمزوری نہیں ہونی چاہیئے۔ہمارا کام نیکی میں بڑھنا ہے۔مگر یہ ضرور یادر ہے کہ اسکے ساتھ ریا نہ ہو۔بہت سے لوگ اپنے کاموں کا اظہار چاہتے ہیں کہ انکے کاموں کو بار بار سراہا جائے۔مگر یہ ایک مرض ہے۔جو بہت مخفی ہوتا ہے اور اسکے بڑے خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔یہ بات مبلغوں میں بھی ہے۔وہ رپورٹ لکھ کر بھیجتے ہیں۔جب نہ چھپے تو اخبار والوں کو ڈانٹ ڈانٹ کر خط لکھتے ہیں کہ کیا ہما راحق نہیں تھا کہ اخبار میں ہماری رپورٹ چھپتی۔واعظوں میں بھی یہ بات ہے۔اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انکے دل کو زنگ لگ جاتا ہے۔کئی انجمنیں ہیں جنکی خواہش ہوتی ہے کہ انکے کام کی تعریف کی جائے۔وہ اپنے کام کی نمائش کرتی ہیں تا کہ لوگ کہیں کہ انہوں نے بڑا کام کیا ہے۔حالانکہ ایسا کر نیوالوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔دوسروں کو کام پر آمادہ کرنے اور تحریک کیلئے کسی کو اپنا کام دکھانا اور بات ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ دوسروں کے منہ سے یہ ل : بخاری کتاب مناقب الانصار باب قول النبي اصبر واحتی تلقونی علی الحوض ترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب ابی بکر و عمر رضی الله عنهما كليهما - بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر۔