خطبات محمود (جلد 5) — Page 518
خطبات محمود جلد (5) ۵۱۷ تم کو بھی فتنہ میں ڈال کر تمہارے امن و امان کو ضائع نہ کر دے۔ کر وامان لیکن یہ مت سمجھو کہ آدم صرف آدم ہی تھے۔ بلکہ ہر ایک نبی آدم ہوتا ہے۔ اور اس آدم کی جماعت اس کی اولاد ہوتی ہے۔ جیسے کہ بنی نوع انسان آدم کی اولاد ہے۔ نبی بھی امت کا باپ ہوتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ آگاہ کرتا ہے۔ جس طرح آدم اول کو جنت یعنی سکھ اور آرام و اطمینان کی زندگی کو چھوڑنا پڑا تھا اسی طرح ہمارے نبیوں کے ذریعہ تمہیں بھی ایک سکون حاصل ہوا تھا۔ دیکھنا کہیں فتنہ میں پڑ کر اس سکون کو ضائع نہ کر لینا۔ جو شخص کسی فتنہ کا موجب ہوتا ہے اس کا وبال بھی اس کی گردن پر ہوتا ہے۔ خدا کی قائم کی ہوئی جماعتوں میں فتنہ ڈالنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ پس ہر ایک وہ بات جس سے جماعت میں فتنہ کا اندیشہ ہو۔ اس سے محتر زر ہو۔ میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اب رمضان جا رہا ہے۔ تقویٰ کے دروازے کھلے ہیں ان میں سے گزرو اور ایسا نہ ہو کہ یہ ایام جو سبق دے چلے ہیں انکو بھلا دو۔ قرآن کریم میں شیطان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ وہ کہتا ہے ۔ لا تيتهم من بين ايديهم ومن خلفهم وعن ايمانهم وعن شمائلهم (الاعراف: ۱۸) میں ضرور ضرور ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے۔ ان کے دائیں سے اور انکے بائیں سے آؤں گا۔ اور ان میں سے اکثر کو ضرور ضرور تیری راہ سے گمراہ کروں گا۔ دوسری جگہ اس کا قول درج ہے۔ الا عبادك منهم المخلصين (الحجر: ۴۱) که خدایا جو تیرے مخلص بندے ہیں ان پر میرا کوئی زور نہیں ۔ پس اپنی زندگی میں ایک تبدیلی پیدا کرو۔ انسان کو روحانی زندگی اسی وقت دی جاتی ہے جب وہ شیطان کے حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اور اپنے اندر ایک نمایاں تبدیلی پیدا کر لیتا ہے۔ اس کی طرف توجہ کرو۔ اور توبہ کروں تو بہ کرو۔ پھر اگر سمندر کی جھاگ کی طرح گناہ ہوں گے تو بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے۔ وہ سب کے سب گناہ معاف کر دیگا۔ کیونکہ جو خدا کے حضور جھکتا ہے۔ خدا اس پر بہت مہربانی فرماتا ہے۔ کیونکہ وہ ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ کسی کو چھوٹا مت سمجھو۔ کسی پر ہنسی ٹھٹھا نہ کرو۔ خدا کی نظر میں کوئی چھوٹا اور حقیر نہیں جو متقی ہے۔ اور کوئی بڑا اور معزب زنہیں جو انتقاء سے دُور ہے۔ لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آؤ۔ بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو کسی کو ذلیل کرنا ایک معمولی بات سمجھتے ہیں۔ لیکن اس سے بہت سے لوگ فتنہ میں پڑتے ہیں۔ ان کا وبال بھی انہی پر