خطبات محمود (جلد 5) — Page 517
خطبات محمود جلد (5) ۵۱۶ ہماری جماعت پر خدا کی طرف سے ایک بوجھ لادا گیا ہے۔اور جو قو میں ہمارے مقابلہ میں ہیں انکی طاقتیں ہم سے کروڑوں حصّہ زیادہ ہیں۔مال کے لحاظ سے وہ ہم سے زیادہ ہیں۔درجوں کے لحاظ سے وہ ہم سے بڑھ کر ہیں۔تعداد کے لحاظ سے ہم سے زیادہ ہیں۔غرض ہر طرح ہم سے زیادہ ہیں۔ایسے خطرناک دشمنوں کا مقابلہ ہے۔اس لئے ہماری ذمہ داری بہت بڑی ہے۔اس لئے ہمیں اپنی طاقت کو مضبوط بنانے اور دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب ہونے کیلئے ہر ایک بات بہت احتیاط اور سوچ کر منہ سے نکالنی چاہئیے۔اور خاص اس مہینہ میں کیونکہ رمضان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔اس کی غرض یہ ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔پس اگر ہم نے رمضان سے یہ سبق حاصل نہ کیا۔تقوی شعاری اختیار نہ کی تو گویا کچھ نہ کیا۔کون جانتا ہے کہ اس کو اگلے رمضان کے دیکھنے کی توفیق ملے گی۔اگلا رمضان تو دُور کی بات ہے آج اس رمضان کا آخری جمعہ ہے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اگلا جمعہ بھی کس پر آئے گا۔پس چاہیئے رمضان نے جو ہمیں سبق سکھائے ہیں اور خاص کر سبق تقویٰ دیا ہے اس کو ازبر کریں۔اپنے ہر ایک عضو کو قابو میں لائیں۔ان فضلوں کو جذب کریں جن کے دروازے خدا نے ہم پر کھولے ہیں۔آئندہ غلطیوں سے بچنے کی پوری پوری کوشش کریں تا وہ تقویٰ ملے جس کا خدا وعدہ کرتا ہے۔پس ہمیشہ احتیاط کرو کہ کہیں کوئی فتنہ والی بات نہ منہ سے نکلے۔فتنوں سے بچنا بھی تقوی میں داخل ہے کیونکہ تقویٰ کا لفظ ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ہر ایک شرارت سے بچنے کا نام تقویٰ ہے۔بہت سے لوگ منہ سے تقویٰ کہتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ تقویٰ کیا چیز ہے۔ہر ایک نقصان رساں اور مضرت بخش چیز سے بچنے کا نام تقویٰ ہے۔اور رمضان اسی غرض سے آتا ہے۔تا وہ انسان کو بتلائے کہ جب ایک شخص ایک وقت میں جائز چیزوں کو بھی خدا کے حکم کے ماتحت ترک کر دیتا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کے حکم کے خلاف ناجائز چیزوں کو استعمال میں لائے۔پس تم اصل تقویٰ حاصل کرو چونکہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک شیطان بھی لگا ہوتا ہے۔بہت سے انسان شیطان صفت اور بہت سی بدروحیں ہوتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بنی آدم جس طرح تمہارے آباء کو اس نے ایک فتنہ میں ڈال دیا۔اور ان سے انکی امن کی زندگی ضائع کرا دی۔اسی طرح شیطان کہیں