خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 498

خطبات محمود جلد (5) ۴۹۷ ہوں کہ بہت سے لوگ اس سے غافل ہو چکے ہیں۔ان کو معلوم ہو کہ خدا کا غضب بھڑ کا ہوا ہے اور حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں خدا کا غضب ایسا بھڑ کا ہے کہ پہلے کبھی ایسا نہیں بھڑکا تھا وہ چاہتا ہے کہ جلا کر خاکستر کر دے مگر بندوں کو پھر بھی مہلت دے رہا ہے پس حضرت صاحب نے کچھ بھنتیں اور کام اشاعت دین کے لئے مقرر فرمائے ہیں جو لوگ انکو پورا کریں گے وہ خدا کے غضب سے بچ جائیں گے لیکن جو اس میں سستی کریں گے وہ خدا کے اس غضب سے بچ نہیں سکتے جو وہ نازل کرنا چاہتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئیے کہ اس سے بچنے کے لئے خاص طور پر توجہ کریں ان میں جس قدر وہ سہولتیں بہم پہنچانا چاہیں۔بہم پہنچا سکتے ہیں۔اگر وہ اس وقت تو جہ نہیں کریں گے تو پھر دوسری قسم کے ابتلاء میں انکی کچھ پروانہیں کی جائے گی اگر وہ اس وقت مال خرچ نہیں کریں گے تو خدا تعالیٰ ان پر ایک ایسا وقت لائے گا کہ ان کے بیوی بچوں کے لئے بھی کچھ نہیں چھوڑے گا۔بعض لوگوں کی حالت یہ ہے کہ موجودہ شرح چندہ کو اپنے لئے ایک مصیبت قرار دیتے ہیں ہاں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کو تین پیسہ فی روپیہ کہا جائے تو وہ چار پیسہ دینے کے لئے تیار رہتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔لیکن جو ایسے نہیں ان کو سمجھ لینا چاہیئے کہ جس قدر زیادہ وہ اپنے طور پر دیں گے اسی قدر ان کے لئے فائدہ مند ہوگا اور اگر وہ نہیں دیں گے تو خدا ان سے جبراً چھین لے گا۔اور وہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔مثلاً بچہ کو جب دوائی دی جاتی ہے اور وہ نہیں پیتا تو اس کے منہ میں چمچہ ڈال کر ز بر دستی اس کے گلے سے نیچے اتار دی جاتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب لوگ کچھ نہ کچھ دین کی خدمت کریں جو نہیں کریں گے ان کے مال ضائع جائیں گے اس وقت ان کو اس امر کی خوشی نہ ہوگی کہ خدا کی راہ میں کچھ خرچ کیا ہے مگر پھر وہ ایسے ابتلاؤں میں ڈالے جائیں گے جن میں پڑ کر انجام اچھا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ان ابتلاؤں کو جو ہمارے اختیار میں ہیں بجالائیں۔تا ان چیزوں کے وارث ہوں جو خدا نے اپنے بندوں کے لئے رکھی ہیں اور وہ ہمیں اپنے غضب سے بچائے کہ اسکے غضب کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔( الفضل ۳۰ جون ۱۹۱۷ء)