خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 483

خطبات محمود جلد (5) ۴۸۲ يَازَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَمِ نِ اسْمُهُ يَحْلِي لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا اے زکریا ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ لڑکا بچپن میں فوت نہیں ہو جائے گا۔ بلکہ زندہ رہے گا اور ہم تجھے ایک اور خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ اس لڑکے میں ایک ایسی بات ہوگی جس میں یہ منفرد ہوگا ۔ اور اس سے قبل کوئی اس بات میں اس کا شریک نہیں ہوگا۔ وہ یہ کہ وہ ایک نبی کا مثیل ہوگا ۔ اور اس سے پہلے اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ انبیاء ما سبق مستقل طور پر نبی تھے۔ کسی نبی کے وہ مشیل نہیں تھے۔ لیکن حضرت یحیی جسکو یوحنا بھی کہا جاتا ہے ایک نبی کے مثیل قرار دیئے گئے ۔ یعنی حضرت الیاس جس کو ایلیا بھی کہتے ہیں ان کے آپ مثیل تھے۔ حضرت مسیح کے آنے کے متعلق بائیل میں پیشگوئی موجود تھی ۔ اور اب بھی ہے کہ وہ نہیں آسکتا جب تک ایلیاء آسمان سے نازل نہ ہوا۔ لیکن ایلیاء نے آسمان سے کیا آنا تھا۔ ایک اور شخص کو خدا تعالیٰ نے انہی صفات کے ساتھ جن سے ایلیاء متصف تھے ۔ حضرت مسیح سے پہلے مبعوث فرما دیا۔ تو حضرت بیحی " میں ایک ایسی بات رکھی گئی جو آپ سے پہلے کسی نبی میں نہ تھی ۔ اور اس سے حضرت یحی" کا نام زندہ جاوید ہو گیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ آپ حضرت مسیح موعود کے لئے ایک دلیل کے طور پر ہو گئے جب مسیح موعود کی صداقت پیش کی جائے گی تو ضرور حضرت یحییٰ کو نظیر کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ اور جب کسی عیسائی کے سامنے یہی یوحنا اور ایلیاء کا واقعہ رکھیں گے تو پھر اس میں تاب نہ رہے گی کہ کچھ بول سکے ۔ بہت سے لوگوں نے اس آیت کے معنی کرنے میں ٹھوکر کھائی ہے اور اس سے یہ سمجھا ہے کہ یحی نام پہلے کسی کو نہیں دیا گیا۔ یعنی آپ کا وہ نام رکھا گیا ہے جو آپ سے پہلے کسی نبی یا غیر نبی کا نہیں رکھا گیا حالانکہ یہ بات بالبداہت تاریخ سے غلط ہے۔ لیکن اگر تسلیم بھی کر لیا جائے :- ملا کی ۴/۵