خطبات محمود (جلد 5) — Page 482
خطبات محمود جلد (5) ۴۸۱ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ان سب کی صف میں سب سے آگے ہیں۔آپ کا ان لوگوں کو خیال تک نہیں۔اگر چہ ان لوگوں کی کتب میں آپ کی پینگوئی مستقل طور پر پائی جاتی ہے۔مگر چونکہ ان کے مانے ہوئے انبیاء کے نام سے نہیں اس لئے ان کو آپ کا خیال نہیں۔اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ سب لوگ آئیں جن کے ہر ایک مذہب والے منتظر ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی مصلحت اور حکمت کے ماتحت ایک ہی شخص کو ان تمام موعود انبیاء کے نام دیدیئے ہیں۔تاہر مذہب والے کو اس کے ماننے اور قبول کرنے میں آسانی ہو۔موعود انبیاء کے نام ایک ہی کو دینے میں یہ حکمت ہے کہ اگر ان لوگوں کو غیر شخص فیصلہ کے لئے دیا جاتا تو وہ اس کو قبول کرنے کو تیار نہ ہوتے۔لیکن اگر وہی شخص ان کو حکم بنا کر دیا جائے جس کو وہ پہلے سے جانتے پہچانتے ہیں اور جس کے نام سے ان کو خاص محبت ہے تو وہ ضرور اسکی طرف توجہ کریں گے۔پس اگر دیگر مذاہب کے لوگوں کو کہا جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے تو وہ تو جہ نہیں کریں گے۔لیکن اگر ہندوؤں کو کہا جائے کہ کرشن آگئے تو کرشن کے نام کے ساتھ محبت رکھنے والے ہند و فوراً پوچھیں گے کہ کہاں آئے ہیں۔اسی طرح عیسائی صاحبان کو جب کہا جائے کہ حضرت مسیح آ گئے تو وہ بڑی خوشی سے اس خبر کو سنیں گے۔اور اسکی تصدیق کی طرف متوجہ ہوں گے۔کیوں؟ اس لئے کہ انہیں ایک آنیوالے کی اس نام سے خبر دی گئی ہے۔جسکی غرض یہ تھی کہ آنیوالے کے نام سے یہ لوگ فائدہ اٹھا ئیں اور حق قبول کریں۔پس جب دنیا میں ایک عظیم الشان شخص کو پہلے انبیاء کے ناموں کے ساتھ بھیجنا تھا تو ضروری تھا کہ اس کا کوئی نمونہ بھی پیش کیا جاتا تا کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے۔اور وقت پر لوگ ٹھوکر نہ کھاتے اب چونکہ خدا وند کریم ایک ہی شخص کو گزشتہ تمام انبیاء کے نام دے کر اور حکم بنا کر بھیجنا چاہتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک نمونہ پہلے سے رکھ دیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :۔