خطبات محمود (جلد 5) — Page 468
۴۶۷ 58 خطبات محمود جلد (5) دُعا سے بڑھ کر کوئی کامیابی کا ذریعہ نہیں فرموده ۱۸ رمتی ۱۹۱۷ء تشہد و تعوذ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی :- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اور فرمایا :- ( سوره بقره رکوع ۲۳) یوں تو دعا ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے مقابلہ میں کوئی روک نہیں ٹھہر سکتی۔ اور یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کی کاٹ کو کوئی ڈھال نہیں روک سکتی ۔ اگر تمام قسم کی دھاتوں کو جمع کیا جائے اور ان سے ایک ڈھال بنائی جائے تب بھی وہ دعا کے حملہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ بہت سے لوگ ہوں گے جنہوں نے بچپن میں بوڑھی عورتوں سے قصّے سُنے ہوں گے اور بہت سے گے جنہوں نے ابتدائی تعلیم کے دوران میں کچھ قصے پڑھے ہوں گے۔ میں نے ایک قصہ سنا تھا کہ کوئی جادو کا محل تھا۔ جو کوئی اس پر حملہ کرتا وہ کامیاب نہ ہوتا تھا پھر کسی نے غالباً اسم اعظم پڑھ کر ماش کا دانہ مارا تو وہ محل پھٹ گیا۔ اس میں خزانہ وغیرہ تھے۔ ان پر اس سے قبضہ کر لیا۔ اور اس طرح کے دوسرے قصے محض بچوں کے خوش کرنے کو بیان کئے ہیں لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ مقامات فتح کرنے کی کوئی تدبیر نہیں ہوتی۔ وہ صرف خدا کے حضور آنسو بہا دینے سے فتح ہو جاتے ہیں۔ ماش کے ذریعہ قلعہ فتح ہو جانا صرف ایک قصہ ہے۔ مگر یہ واقعہ ہے کہ خدا وند کریم ہر ایک قسم کی مشکلات کے پہاڑ صرف چند لفظوں کے کہنے اور آنکھوں سے چند دانے گرانے سے اڑا دیتا ہے۔ آنسو بھی دانہ کے مشابہ ہی لیکن بظاہر اس سے بھی زیادہ نازک اور کمزور کہ جو انگلی کے ساتھ چھونے سے ہی ٹوٹ جاتے ہیں ۔ وہ قلعہ جس کو کوئی فتح نہیں کر سکتا وہ ان سے فتح ہو جاتا ہے۔ تو دُعا ہر زمانہ اور ہر وقت بڑے بڑے عظیم الشان کام کرتی ہے۔ لیکن ہمارے زمانہ میں تو بہت ہی کار آمد ہتھیار ہے۔ میں نے ایک رؤیا دیکھی اور آج