خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 469

خطبات محمود جلد (5) ۴۶۸ تک جب یاد آتی ہے اس کی لذت محسوس کرتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ ایک اثر دھا ہے اور ایک سڑک ہے کچھ آدمی آگے بڑھے ہوئے ہیں اور ایک جماعت میرے ساتھ ہے جو لوگ آگے ہیں ان کے متعلق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہی ساتھ سے الگ ہوئے ہوئے ہیں۔اس کا شاید یہ مطلب ہو کہ بظاہر تو ساتھ ہیں۔مگر اطاعت میں تقدم کرتے ہیں۔چلتے چلتے کسی کے چیخنے کی آواز آئی ہے۔اور میں اس کی طرف دوڑتا ہؤا گیا کہ اسے مصیبت سے بچاؤں۔دیکھا کہ ایک اثر دھا ہے جو لوگوں پر حملہ کر رہا تھا۔اور کوئی انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا جب وہ سانس لیتا تھا تو بے اختیار لوگ اس کی طرف کھینچے چلے جاتے اور کوئی ان کو روک نہ سکتا۔انسانوں پر ہی کیا موقوف ہے ہر ایک چیز درخت وغیرہ تک اس کی طرف کھینچنے لگتے اور جب وہ سانس باہر نکالتا جہاں تک پہنچتا وہاں تک کی ہر ایک چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا۔اس وقت میں نے اپنے دوستوں میں سے ایک کو دیکھا جس پر وہ حملہ آور ہو رہا تھا۔میں بھاگ کر گیا کہ اس کی مدد کروں۔لیکن وہ اثر دہا اس سے ہٹ کر مجھ پر حملہ کرنے لگا۔اس وقت مجھ کو وہ اثر دہا یا جوج ماجوج ہی معلوم ہونے لگا۔اور خیال آیا کہ اس کا سامنے ہو کر تو مقابلہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ لا یدان لا حد لقتالھماتے کہ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا۔اور یہ حدیث یا جوج ماجوج کے متعلق ہے۔اس سے مجھے کچھ گھبراہٹ سی پیدا ہوئی لیکن معا یہ بات مجھے سمجھائی گئی کہ اس حدیث کا تو یہ مطلب ہے کہ اس کے سامنے ہو کر کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اگر کسی اور طریق سے حملہ کیا جائے تو ضرور کامیابی ہوگی۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک چار پائی پیدا ہوئی ہے۔جو بنی ہوئی نہیں صرف چوکھٹ ہے اور وہ اس اثر د ہے کی پیٹھ پر رکھی گئی ہے۔میں اس پر کھڑا ہو گیا اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنی شروع کر دی ہے جس سے وہ پگھلنا شروع ہو گیا۔اور آخر کار مر گیا۔یہ میں نے اس کے سامنے ہو کر مقابلہ نہیں کیا بلکہ اوپر ہو کر کیا تھا۔اس لئے کامیاب ہو گیا۔آج جو اسلام کے خلاف فتنہ برپا ہے کوئی نہیں جو تلوار سے اس کو مٹا سکے اس کے مٹانے کا ذریعہ صرف ایک ہی ہے۔اور وہ ہے خدا کے حضور دعا کرنا۔پس سب ملکر دعائیں کرو اور اسلام کی تائید میں اس ہتھیار سے بہت زیادہ کام لو۔دیکھو جو کوئی اسلام کا نام لے کر کسی کے مقابلہ میں تلوار اٹھاتا ہے وہ سخت ذلیل اور خوار ہوتا ہے۔کیونکہ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ اس وقت تلوار کام نہیں دے گی۔تو اس زمانہ میں صرف دُعا ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے مخالفین اسلام کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے مگر جو لوگ اسلام کے نام پر اس وقت تلوار اٹھاتے ہیں وہ در حقیقت اسلام کے دشمن ہیں۔وہ نہ صرف خُدا اور : مسلم بحوالہ مشکوۃ المصابیح کتاب الفتن باب العلامات بين يدى الساعة۔