خطبات محمود (جلد 5) — Page 453
خطبات محمود جلد (5) ۴۵۲ اختیار کیا وہ سر تا پا غلط تھا۔ کیونکہ وہ اپنے خیالات کو سچ سمجھا۔ اور اس حق کو جو در حقیقت حق تھا۔ سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ مگر جس کو اس نے حق سمجھا۔ اس پر بڑی مضبوطی اور جوش کے ساتھ قائم رہا۔ یہ اس کی خوبی تھی۔ تو اسی طرح کوئی بد سے بدتر انسان بھی ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جس میں کوئی نہ کوئی خوبی نہ ہو۔ باقی نہ ہو۔ رہی بشری کمزوریاں سو وہ تو انبیاء میں بھی ہوتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے دو آدمی جھگڑتے ہوئے میرے پاس آئیں اور میں اپنی سمجھ کے مطابق ایک کا حق دوسرے کو دلوا دوں تو یا درکھو کہ اگر چہ جس کا حق نہیں وہ دوسرے کا حق لے گیا ہے تاہم وہ خُدا کے حضور جواب دہ ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اے غرض جو انسان وسیع نظر سے دیکھے۔ اس کو معمولی معمولی باتوں سے گھبراہٹ نہیں ہوتی ۔ اور جو لوگ معمولی معمولی باتوں کو بڑا سمجھ لیتے ہیں۔ وہ کسی عمدہ نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے ۔ ان کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔ ہر وقت دکھ اور تکلیف میں رہتے ہیں۔ ان میں خود پسندی کی مرض پیدا ہو جاتی ہے اور یہ ایسی مرض ہے جو انسان کو بہت نقصان پہنچاتی ہے۔ دوسرے میں عیب دیکھنا اور اپنی ذات کو اعلیٰ سمجھنا۔ اس سے بڑھ کر کوئی نا عیب اور نقص نہیں ہے۔ پس ہر انسان کو یا د رکھنا چاہئیے کہ تمام خوبیوں والی اور ہر قسم کے عیوب سے منزہ ذات تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اس لئے اگر کسی کو کسی بھائی میں کوئی نقص نظر آتا ہے تو وہ اس کو سمجھائے اور اس کے نقص دور کرنے کی کوشش کرے لیکن اگر وہ اس پر گھبرائے گا اور بجائے اس کا نقص دور کرنے کی کوشش کرنے کے الٹا اس کا نام دہرے گا تو اس کا نتیجہ بجز خرابی کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ اگر کوئی توجہ کرے تو کمزوریاں ہو شیار کرنے کا موجب ہو سکتی ہیں۔ بعض لوگ زلازل اور دیگر قسم کے عذابوں پر خدا تعالیٰ کی نسبت کہا کرتے ہیں کہ خُدا (نعوذ باللہ) ظالم ہے مگر وہ جانتے نہیں کہ یہ ظلم نہیں ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کے اس فعل میں ہزاروں حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر انسان کے سر میں جوئیں نہ پڑیں تو وہ کبھی سر دھونے کی طرف متوجہ ہی نہ ہوتا۔ اور گندہ ہو جاتا یا مثلاً اگر آنکھوں میں سرخی نہ پیدا ہو جاتی یا اور کوئی خرابی کی ایذائی علامت ظاہر نہ ہوتی تو انسان علاج کی طرف متوجہ ہی نہ ہوتا اور اندھا ہو جاتا۔ تو سر میں جوؤں کا پڑنا اور آنکھوں میں سرخی کا آنا یہ بطور آگاہی کے ہے جو بڑے نقصان سے بچانے کے لئے ہے۔ اسی طرح اگر کسی انسان میں کوئی کمی اور نقص تمہیں نظر آئے تو اصلاح کی فکر کرو۔ یہ نہیں کہ :- بخاری کتاب الاحکام باب موعظة الامام الخصوم ۔