خطبات محمود (جلد 5) — Page 438
خطبات محمود جلد (5) ۴۳۷ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس طرح کرو۔پس جب خدا تعالیٰ کچھ کرنے سے پہلے ہی دے دیتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ ہمارا حق نہیں ملا یا ہماری خدمات کا لحاظ نہیں کیا گیا حد درجہ کی نادانی نہیں تو اور کیا ہے۔یہ تو ایسی بات ہے کہ ہم ایک مزدور کو بٹالہ بھیجیں اور آٹھ یا بارہ آنہ مزدوری اسے پہلے دے دیں۔لیکن وہ واپس آکر کہے کہ مجھے کچھ نہیں دیا گیا۔یہ اس کی جہالت نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا۔تو اللہ تعالیٰ پہلے دیتا ہے اور بعد میں کام لیتا ہے۔ایسی صورت میں دینی خدمت کر کے اپنا حق جتلانا گستاخی ہے۔پس ایسے لوگ جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا کے لئے کام کرتے ہیں۔اور ہماری طاقت ہی کیا ہے کہ کوئی دینی کام کرسکیں جو کچھ ہوتا ہے خُدا کے فضل سے ہی ہوتا ہے۔مگر اس وقت جبکہ اُن کی جگہ کسی دوسرے کو مقرر کر دیا جائے۔یا ان کی نسبت کسی دوسرے کو کچھ زیادہ مل جائے تو وہ بھی انہیں لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں جو کوئی کام کر کے خُدا تعالیٰ پر احسان جتلاتے ہیں اور یہ مرض جو ان کے سینہ کے کسی کو نہ میں مخفی ہوتا ہے باہر نکل آتا ہے۔اس لئے سب دوستوں کو چاہیے کہ اپنے نفسوں کا خاص طور پر مطالعہ کریں۔اور اس مرض کو بالکل نکال دیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ذراسی بات پر کہدیتے ہیں کہ ہماری حق تلفی ہوئی ہے میں کہتا ہوں جب وہ دین کے لئے اور خدا تعالیٰ کے لئے کام کرتے ہیں تو حق تلفی کے کیا معنی دیکھو حضرت مسیح موعود نے خدا تعالیٰ کے حضور کس قدر عاجزی اور انکساری اختیار کی ہے فرماتے ہیں۔کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں پھر فرماتے ہیں۔ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر یا گیا درگاہ میں بار یہ ایک اتنا بڑا انسان اپنے متعلق کہتا ہے جس کی نسبت تمام انبیاء نے پیشگوئی کی۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا موعود تھا۔آپ کی امت میں بہت بڑے فتنہ کے وقت آپ کا نائب مقرر ہو کر آیا تھا۔اور آپ کا بروز ہو کر کھڑا ہو ا تھا۔پس جب وہ خُدا تعالیٰ کے حضور اس قدر گرتا اور فروتنی اختیار کرتا ہے کہ اپنے آپ کو انسان بھی نہیں قرار دیتا ہے۔تو اور کسی نے اس کے مقابلہ میں دین کی کیا خدمت کرنی ہے کہ خدا تعالیٰ پر اپنا حق سمجھے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے عظیم الشان انسان سے بھی جس کی غلامی سے حضرت مسیح موعود جیسا انسان