خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 416

خطبات محمود جلد (5) ۴۱۵ اور اگر اپنی خوشی سے ایسا نہیں کرو گے تو مجبور کر کے تم سے لیا جائے گا۔ اور اس وقت تمہارے لئے کوئی اجر نہ ہوگا۔ خدا تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بھی قرض سے ہی تعبیر فرماتا ہے۔ کہ اگر تم ہم کو قرض دو گے تو ہم تمہیں بہت سود یعنی نفع دیں گے لے لیکن اگر خدا کے دین کے لئے نہیں دو گے تو پھر اپنے مال کار کی طرف دیکھو اور اس سزا پر غور کرو جو مان کر اس کے خلاف کر نیوالوں کے لازم حال ہے۔ گورنمنٹ تو زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد سود دیتی ہے۔ لیکن خُدا کو قرض دینے والے کو جو نفع خدا کی طرف سے ملتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ غرض خُدا کی طرف سے ملنے والے نفع کو اس نفع سے کچھ نسبت نہیں ہے پس اگر تم خُدا کی راہ میں خوشی سے اپنے مال قربان نہیں کرو گے تو یاد رکھو کہ تمہارے مال تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ کیونکہ اگر کوئی خُدا کے لئے اپنے مال کو قربان نہیں کرتا تو اس کو مجبوراً چھوڑنا پڑے گا۔ اور اگر کوئی خدا کے لئے اپنے تعلقات کو قربان نہیں کرتا تو اس کو تمام تعلقات مجبوراً قطع کرنے پڑیں گے۔ پس جب تک تمہارے اختیار میں ہے۔ خوشی سے کرو۔ اور اگر اپنی خوشی سے نہ کرو تو پھر خدا تعالی تم سے مجبوراً کرائیگا۔ میں اپنی جماعت کو اس کے عہد یاد دلاتا ہوں۔ اس وقت خُدا کے دین کیلئے جانوں کی ضرورت نہیں بلکہ مال کی ضرورت ہے اور تم نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔ پس خوشی سے دین کے کاموں میں حصہ لو۔ اور بڑھ بڑھ کر قدم آگے بڑھاؤ۔ اس کے بدلہ میں تمہارے لئے بڑے بڑے اجر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (السجده: ۱۸) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ لا عين رأت ولا اذن سمعت ولا خطر على قلب بشر ۲ ۔ پس اگر ہم خوشی سے ان فرائض کو انجام دیں گے تو ہمارے لئے بڑے انعامات ہیں۔ لیکن اگر خوشی سے ادا نہ کریں گے تو پھر خود ہی سمجھ لو کہ کیا ہوگا۔ جس طرح کوئی ایسا نفع نہیں جو خدا نہ دے سکتا ہو۔ اسی طرح کوئی سزا ایسی نہیں جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ خدا تعالیٰ ہمارے کاموں کو دن بدن بڑھا رہا ہے اور ان کا بڑھنا بتلاتا ہے کہ ہم اس کو برداشت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لا يكلف الله نفسا إلا وسعها - اگر ہم برداشت نہ کر سکتے تو وہ ہم پر اور بوجھ نہ ڈالتا یہ جدا بات ہے کہ ہم سستی کریں اور اس کو اچھی طرح نہ سنبھالیں۔ ابھی نائیجیریا میں ایک سو سے زیادہ احمدی ہوئے ہیں۔ ہمارا تو کوئی آدمی وہاں نہیں گیا۔ خُدا نے خود ہی ان کو احمدیت کی طرف راہ نمائی کی ہے۔ وہ لوگ اب مبلغ چاہتے ہیں ۔ اگر اُن کو مبلغ نہ دیا جائے تو وہ اور ترقی نہیں کر سکتے ۔ پس ان کے لئے فوراً آدمی چاہئیے ۔ اسی طرح اور کئی جگہوں کے لئے مبلغوں کی ضرورت ہے۔ پس تم خدا تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لئے اُٹھ کھڑے ہو۔ خدا تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں ان سب فیوض کے حاصل کرنے کی توفیق دے۔ جو راستبازوں کے لئے ہیں۔ اور پہلے انبیاء کی جماعتوں کو ملے ہیں۔ اللہ تعالی ایسا ہی کرے۔ آمین۔ (الفضل ۱۳ مارچ ۱۹۱۷ء) - مَن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً (البقره: ۲۴۶) :- بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورہ سجدہ۔