خطبات محمود (جلد 5) — Page 411
۴۱۰ 50 خطبات محمود جلد (5) اپنے فرائض ادا کرو فرموده ۹ / مارچ ۱۹۱۷ء تشہد وتعوذ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی:۔الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ : هُدًى لِلْمُتَّقِينَ O الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ، وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ، أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ LO بعد ازاں فرمایا:- ایک جماعت ایسی ہوتی ہے جو اپنے منہ سے اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ فلاں فلاں قواعد و قوانین کی میں اتباع کروں گی۔کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان قواعد و قوانین کی اتباع کا اقرار نہیں کرتے۔یہ لوگ بھی جو ان قواعد کو تسلیم نہیں کرتے۔ان کی خلاف ورزی کرنے پر مجرم ہوتے ہیں۔لیکن جو اقرار کر کے پھر ان قواعد پر عمل نہیں کرتے وہ زیادہ مستحق سزا ہوتے ہیں۔جن لوگوں نے قواعد کو تسلیم ہی نہیں کیا ہوتا۔ان کی طرف سے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ابھی قواعد بنانیوالی حکومت و طاقت کے اختیار کو ہی تسلیم نہیں کیا۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی کوئی حکومت ہے ہی نہیں جو ہمارے لئے قواعد منضبط کرے۔اگر ہے تو اسے اختیار ہی نہیں کہ ہمارے لئے کسی قسم کے قواعد بنائے۔اس لئے ان لوگوں کا انکار تصفیہ حقوق کے لئے ہے۔مگر جوان قواعد کو مان کر انکار کرتے ہیں وہ بغاوت کرتے ہیں۔ان دونو گروہوں میں فرق ہے۔اول گروہ جس نے ابھی قواعد کو تسلیم نہیں کیا اس کے افراد تو کہتے ہیں کہ ہم ماننے کے لئے تیار ہیں۔مگر ہمیں یہ تو سمجھا دیا جائے کہ آپ کو ان قوانین کے بنانے کا اختیار بھی ہے۔پس جب آپ یہ ثابت کر دیں گے تو ہم مان لیں گے۔مگر دوسرے گروہ کی حالت بالکل : البقره: ۲ تا ۶