خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 32

خطبات محمود جلد (5) ذراسی بات سے اس سے ایسا دور ہو جاتا ہے کہ گو یا کبھی تعلق ہی نہ تھا۔اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو بڑا عالم سمجھتا ہے مگر ذراسی بات پر اس کے علم کی قلعی کھل جاتی ہے۔تو انسان اپنے نفس کو غلط سمجھتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور اس کے انا اللہ اعلم کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انسان کے نفس کو فتنہ میں ڈال کر بتا دیتا ہے کہ میں زیادہ جاننے والا ہوں۔وَلَقَد فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فرمایا۔کہ ہم نے پہلے لوگوں کو بڑی بڑی آزمائشوں میں ڈالا تھا۔اور ان کی بڑی بڑی آزمائشیں کی تھیں۔پس ضرور ہے ان سے پچھلوں کی بھی اس طرح آزمائشیں کی جائیں۔فَلَيَعْلَمَنَّ اللهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الکذبین۔پس ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو فتنہ میں ڈال کر سچے اور جھوٹے صادق اور کا ذب کو الگ الگ کر دے۔غرض انسان کے لئے جس طرح خدا تعالیٰ کے قرب کے دروازے کھلے ہیں اور اس کے لئے انسانیت کے قائم رکھنے کے لئے ذرائع موجود ہیں اور اس پر یہ احسان کیا ہے کہ اسے انسان بنا کر باقی تمام مخلوق پر فضیلت بخشی ہے۔اسی طرح اس کے لئے قرب الہی حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی کوششوں کی بھی ضرورت ہے اور بڑے بڑے کٹھن امتحانوں سے گذرنا پڑتا ہے تب جا کر اسے حقیقی انسانیت کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ورنہ اس سے پہلے وہ شکل تو انسان کی ہوتی ہے مگر در حقیقت وہ حیوان ہوتا ہے۔اس زمانہ میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمدن کو قائم رکھنے کے لئے کس قدر جد و جہد اور کوشش کی جا رہی ہے۔اور کیسی کیسی قربانیاں کی جاتی ہیں اور وہ لوگ جو دنیاوی رنگ میں انسانیت کے فرق کو نمایاں کر رہے ہیں کس قدر اس میں کوشاں ہیں۔آج ہی مجھے اخبار میں ایک خبر پڑھ کر سخت حیرت ہوئی ہے کہ یورپ کی عورتوں کا اتنا حوصلہ ہے کہ ہمارے مردوں کا بھی اتنا نہیں ہے۔ابھی انگلستان میں بھرتی ہو رہی ہے۔اس کے متعلق واقعہ ہے کہ ایک بُڑھیا کے پاس بھرتی کرنے والا گیا اور اسے کہا کہ تمہارا کوئی لڑکا بھرتی ہوا ہے یا نہیں۔اس نے کہا میرے نولڑ کے ہیں جن میں سے اس وقت تک آٹھ بھرتی ہو چکے ہیں ان میں سے چار لڑائی میں مارے گئے ہیں۔دو زخمی پڑے ہیں اور دولڑائی پر ہیں۔اب ایک باقی ہے اگر اس کی بھی بادشاہ کو ضرورت ہے تو حاضر ہے بھرتی کرلومیری