خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 401

۴۰۰ 48 خطبات محمود جلد (5) جماعت قادیان کے متعلق فرموده ۲۳ فروری ۱۹۱۷ء تشہد وتعوذ کے بعد حضور نے حسب ذیل آیات کی تلاوت کی :- قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الخنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (الناس) اور فرمایا:- آج میں مختصر طور پر ایک خاص بات کی طرف یہاں کے لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔بہت سی باتیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ جنہیں کہنے والا تو اپنے منہ سے نہایت آسانی اور جلدی سے نکال دیتا ہے۔مگر وہ دوسروں کے لئے ابتلاء کا موجب بن جاتی ہیں اور ان کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کہیں کے کہیں چلے جاتے اور بالکل گمراہ ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا نام جو دوسروں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتے ہیں خنّاس رکھتا ہے۔اور ایسی باتیں کرنے والوں اور اس قسم کے فتنہ کو اتنا بڑا اور اس قدر خطر ناک قرار دیتا ہے کہ اپنی تین صفات کے ذریعہ ان سے پناہ مانگنے کی ہدایت کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلهِ الناس تو خدا تعالیٰ کی ان تین صفات - رَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاس اور الهِ النَّاس کے ذریعہ ایسے لوگوں اور ان کے فتنہ سے پناہ مانگی جاتی ہے۔عام طور پر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کو ایک ہی صفت سے پکارا جاتا ہے۔مگر یہاں تین صفتیں بیان فرمائی ہیں۔کہ ان کے ذریعہ پناہ مانگو۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ فتنہ بہت ہی بڑا ہے۔بعض اوقات ایک بات کو بہت معمولی اور چھوٹا سمجھا جاتا ہے۔مگر اس کے نتائج بہت خطرناک نکلتے ہیں۔آپ لوگوں نے سنا ہوگا۔حضرت مولوی صاحب سنایا کرتے تھے کہ خلافت بغداد کی تباہی کی ابتداء دو شخصوں کی معمولی باتوں سے ہی شروع ہوئی تھی۔دونوں جا رہے تھے۔ایک نے دوسرے کو کہا۔آؤ کباب کھا ئیں۔دوسرے نے کہا کباب کیا کھانے ہیں۔آؤلڑائی کرائیں۔چنانچہ انہوں نے شیعوں کے محلہ میں جا کر کہدیا کہ سنی تمہارے متعلق یہ کہہ رہے ہیں۔اور سنیوں کے ہاں جا کر شیعوں کی نسبت یہ کہد یا۔اس پر دونوں فرقوں میں لڑائی شروع ہو گئی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بغداد کی خلافت